دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کے وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اس کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر مناسب اورسخت اقدمات کرے۔کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں گروپ 8 کے وزرائے خارجہ نے اپنے دوروزہ اجلاس کے بعد حتمی اعلامیے کے مسودے میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔حتمی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ''ایران کی جانب سے مسلسل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرنا اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئِی اے ای اے کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر تعاون نہ کرنا جی8 وزرائے خارجہ کے لیے گہری تشویش کا سبب ہے''۔وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری تنازعے پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور بین الاقوامی برادری کو دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاوکے دور کو برقراررکھنے کے لیے مناسب اورسخت اقدامات کرنے چاہئیں۔تاہم بیان کے مسودے میں ایران کے خلاف پابندیوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین مستقل رکن ممالک امریکا ،برطانیہ اور فرانس،جرمنی کے ساتھ مل کرایران کے خلاف نئی سخت پابندیاں لگوانے کے لیے کوشاں ہیں لیکن روس ان ممالک کی طرح ایران کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کے لیے کوئی زیادہ جوش وجذبے کا مظاہرہ نہیں کررہا ہے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری تنازعے کا مذاکرات کے ذریعے کوئی حل تلاش کیا جائے۔درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ''چین بھی ایران کے خلاف اقدامات تجویز کرنے والے مشاورتی گروپ کا حصہ ہے اور وہ یہ واضح کرچکا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایران عالمی برادری کے لیے قابل قبول نہیں ہے''۔امریکی وزیرخارجہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے حوالے سے چین کے خدشات دورکرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اشتراک در:
نظرات پیام (Atom)
هیچ نظری موجود نیست:
ارسال یک نظر