پنجشنبه، خرداد ۲۰، ۱۳۸۹

اپوزیشن رہنماؤں کو حضرات طلحہ وزبیر سے تشبیہ دینے پر مولانا عبدالحمید کا اظہار پریشانی


زاہدان (سنی آن لائن) درس صحیح بخاری کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل کے حوالے سے بعض احادیث مبارکہ کی تشریح کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے حضرات طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما کے فضائل کے بارے میں خصوصی گفتگو فرمائی۔
انہوں نے کہا متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد بعض افراد نے اپوزیشن رہ نماؤں کو ان دو جلیل القدر صحابہ کرام سے تشبیہ دینا شروع کردیا ہے اور گزشتہ سال (جون) میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات کو صحابہ کرام کے اجتہادی مشاجرات واختلافات سے قیاس کیا ہے جو انتہائی پریشان کن مسئلہ ہے۔سرپرست دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا گزشتہ چند عرصے سے خاص طور پر متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ایران کے بعض مذہبی رہ نما اور اعلی حکام اپنے سیاسی مخالفین کو حضرات طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما سے تشبیہ دیتے چلے آرہے ہیں۔ حالانکہ اہل سنت الجماعت کے علماء ودانشوروں نے ہمیشہ تاکید کی ہے کہ طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما اکابر صحابہ اور سابقین اولین میں سے ہیں جن کی تعریف سورہ توبہ کی آیت: «والسابقون الأولون من المھاجرین والانصار... » میں اللہ تعالی نے فرمائی ہے۔ یہ دو جلیل القدر صحابی "عشرہ مبشرہ" میں سے ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دنیا میں تصریح کرکے جنت کی بشارت دی ہے۔اہل سنت تمام صحابہ کرام خاص طور پر خلفائے راشدین اور اکابر صحابہ کا بیحد احترام کرتے ہیں اور انہیں اپنی مقدسات میں شمار کرتے ہیں۔اس لیے اہل سنت والجماعت جن کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے اس طرح کی نامناسب تشبیہات کو اپنی مقدسات کی توہین سمجھتے ہیں اور اس پر احتجاج بھی کرچکے ہیں۔بات آگے بڑھاتے ہوئے عظیم سنی رہنما نے خمینی کی برسی کے موقع پر سپریم لیڈر خامنہ ای کے حالیہ خطاب پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اہل سنت والجماعت برادری اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ خامنہ ای جو مقدس شخصیات کی توہین کے حوالے سے ہمیشہ حساس رہتے ہیں اور دوسروں کو ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں بذات خود انقلاب کی برسی کے موقع پر اس غلط تشبیہ کو زبان پر لائیں جو سنی برادری کے لیے باعث تشویش امر بن چکاہے۔آخر میں انہوں نے کہا ہماری ذمہ داری ہے کہ سارے صحابہ کرام اور اہل بیت کا احترام کریں اور ان کا فیصلہ اللہ تعالی پر چھوڑدیں۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے: «تلک أمة قد خلت لها ما کسبت و لکم ما کسبتم و لاتسئلون عما کانوا یعملون.»

مزید فوج افغانستان نہیں بھیجیں گے، برطانوی وزیراعظم


کابل : برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہاہے کہ مزید فوج افغانستان نہیں بھیجی جائیگی، ملکی سیکورٹی کاکنٹرول افغان حکومت کو سنبھالنا ہوگا ۔کابل پہنچنے پر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کی۔ کانفرنس کے دوران ڈیوڈ کیمرون نے کہاکہ برطانوی عوام مزید فوج افغانستان بھیجنے کے حق میں نہیں۔ افغانستان کا سیکورٹی کنٹرول افغانستان کی حکومت کے حوالے کیا جائے۔ اس سے پہلے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کابل پہنچے تو ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔کیمرون اور افغان صدر حامد کرزئی نے ملاقات کی دوران نئی حکومت کے قیام اور خارجہ پالیسی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

روس کاایران سے میزائل معاہدہ منجمد کرنے کا فیصلہ


ماسکو: ایران کےخلاف اقوام متحدہ پابندیوں پرعملدرآمد شروع ہوگیا ہے روس نے ایران کو میزائل فراہمی کا معاہدہ منجمد کرنےکا فیصلہ کرلیا۔روسی خبر رساں ایجنسی نے روس کی ہتھیاروں کے صنعت کے ذرائع کے حوالے سے کہاکہ سلامتی کونسل کی چوتھی پابندیوں کے بعد روس اور ایران کے درمیان جدید میزائل ایس۔ تین سو کی فراہمی والا معاہدہ منجمند ہوگیا۔ اس سے پہلے روسی حکام کہہ چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود ایران سے میزائل فراہمی کا معاہدہ متاثر نہیں ہوگا۔ معاہدے کے مطابق روس ایران کو ایس تھری ہنڈریڈ میزائل فراہم کرے گا۔

کراچی بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک


کراچی …کراچی میں بلدیہ ٹاؤن کے علاقے نیول کالونی میں بم دھماکے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے ، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔دھماکے سے قریب کھڑے کئی موٹر سائیکل بھی تباہ ہوگئیں۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہیں بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

ڈبلن میں ایرانی منحرفین کی منوچر متکی پر انڈوں کی بارش


ایران کے وزیر خارجہ منوچر متکی پر ڈبلن میں ایک کانفرنس کے دوران ناراض ایرانیوں نے حملہ کر دیا۔ کانفرنس کے موقع پر ایرانی منحرفین کے دو گروپوں کے درمیان تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ایرانی وزیر خارجہ کے ذاتی محافظوں نے ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ یوروپین آفیئرز میں منوچر متکی کی آمد پر احتجاج کرنے والے دو مظاہرین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ مسٹر متکی کی آمد پر انہیں آمریت اور دہشت گردی کا نمائندہ قرار دینے والے افراد کو ان کے محافظوں نے دھکے دیکر ہال کی سیڑھیوں سے نیچے اتار دیا تاہم انہیں اس کارروائی میں زخم نہیں آئے۔ہال کے باہر ایرانی منحرفین پر متکی کے گارڈز کے تشدد کی خبر سن کر سیکڑوں افراد باہر جمع ہو گئے۔ جوں ہی منوچر متکی کانفرنس ختم ہونے پر ہال کے باہر اپنی کار میں سوار ہونے لگے تو غصے میں بپھرے مظاہرین نے ان پر انڈے پھینکنے شروع کر دیئے اور ان کی کار کو ٹھڈے مارے۔ منوچر کے محافظوں نے انہیں بحفاظت مظاہرین کے چنگل سے نکالا۔ آئرش پولیس نے تین مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس پر نئی پابندیاں لگانے کی مذمت کی ہے۔

قندھار میں شادی کی تقریب میں دھماکا، 39 افراد ہلاک


جنوبی افغانستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ صوبہ قندھار کے ارغن داب ضلع میں ایک شادی کی تقریب میں دھماکے کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک ہو گئے۔صوبے کے انتظامی ڈائریکٹر محمد انس کا کہنا ہے کہ دھماکا افغانستان کے مقامی وقت رات نو بجے ہوا۔ اس دھماکے میں ستر افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے واقعے کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے لواحقین مقامی اہسپتال کے باہر جمع ہیں۔ عبد الخالق نامی ایک شخص، جس کا بھتیجا اس دھماکے میں شدید زخمی ہوا، نے بتایا کہ وہ لوگ دھماکے کے وقت شادی کی تقریب میں موجود تھے، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔

چهارشنبه، خرداد ۱۹، ۱۳۸۹

یمنی فوج کی القاعدہ کے جنگجوٶں کے ساتھ جھڑپ


یمن میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجوٶں کے ساتھ جھڑپ میں دس فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔یمن کی سرکاری فورسز نے گذشتہ ہفتے القاعدہ کے حملے میں ایک اعلیٰ فوجی افسر کی ہلاکت کے بعد شمال مشرقی صوبے مآرب میں مشتبہ جنگجوٶں کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے۔میڈیکل اور قبائلی ذرائع کے مطابق فوجیوں نے الحمہ کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجوحسن عبداللہ صالح العقیلی کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کی تھی لیکن وہ فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔بعد میں فوجیوں کی ان کے حامیوں سے لڑائی شروع ہوگئی جس میں دس فوجی زخمی ہوئے ہیں ۔فوج کی ٹینکوں کے ساتھ کارروائی میں حسن عقیلی کا گھر مکمل طورپرتباہ ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز مشرقی شہرمآرب کے جنوب میں القاعدہ کے جنگجوٶں نے یمنی فوج کےکرنل محمد صالح الشعیف کے قافلے پر حملہ کردیا تھا جس میں کرنل صالح اور ان کے دومحافظ مارے گئے تھے۔کرنل صالح سفارآئیل فیلڈ میں تعینات فورسزکے معائنے کے لیے جارہے تھے۔مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اٹھائیس سالہ حسن عقیلی کا نام یمنی حکومت کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے اورانہوں نے ہی کرنل پر حملے کی قیادت کی تھی۔مآرب یمن میں القاعدہ کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ یمن القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کا آبائی وطن بھی ہے۔

اتحادی فوج کا ہیلی کاپٹر تباہ،چار غیر ملکی فوجی ہلاک


افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز طالبان عسکریت پسندوں نے جنوبی صوبے ہلمند میں اتحادی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے جس میں سوار چار غیر ملکی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔
بیان میں اس واقعے کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
طالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف احمدی نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر دو راکٹ داغے گئے۔
امریکی اور برطانوی فوجی طالبان کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ ہلمند اور اس کے گردونواح میں عکسریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں 17غیر ملکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ 2001ء میں افغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی آمد کے بعد سے اب تک 1800کے لگ بھگ بین الاقوامی فوجی مارے جاچکے ہیں۔

ایران کے خلاف "سخت ترین" پابندیاں لمحوں کی بات ہے


امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر پابندیوں کا نیا دور سخت ترین ہوگا۔ متوقع طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کے دن پابندیوں کے مجوزہ مسودے پر حتمی رائے شماری کی جائےگی۔ ہلیری روڈم کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام پر پابندیوں کے چوتھے دور کی قرارداد کو حتمی شکل دینے کے لئے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی طرف سے مضبوط حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران، عالمی برادری کو مطمئن نہیں کر سکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے، اس لئے تہران حکومت پر پابندیاں عائد کرنا ناگزیرہو چکا ہے۔ہلیری کلنٹن نے اس حوالے سے سلامتی کونسل کی طرف سے رائے شماری کے نتائج پرکوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے امید ظاہر کی ہے کہ پابندیوں کا یہ مسودہ منظور کر لیا جائے گا۔بدھ کے دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک، ایران پر پابندیوں کے چوتھے دور کے لئے تیار کئے گئے مسودے پر ووٹنگ کر رہے ہیں۔دوسری طرف ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران پر مزید پابندیوں عائد کی گئیں تو وہ عالمی برادری کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ترکی اور برازیل کی ثالثی میں جوہری ایندھن کے تبادلے کی پیشکش ایک ایسی ڈیل ہے جو دوبارہ نہیں دھرائی جائے گی۔مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ تہران حکومت ایسے الزامات کو ہمیشہ ہی مسترد کرتی آئی ہے۔ایران کے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کے پہلے تین ادوار میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے ساتھ حساس جوہری آلات کی تجارت نہیں کی جائے گی اور ایسے تمام افراد کے مالی اثاثے منجمد کر دئے جائیں گے جو تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام میں کسی طرح بھی ملوث پائے جائیں گے۔ اب پابندیوں کے چوتھے دور میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ یورینیم کی افزودگی ترک کر دے۔ چوتھے دور کی پابندیوں میں ایران کو بھاری اسلحہ کی خرید سے روکے جانے کی تجویز ہے۔ ان پابندیوں کی کے تحت ایران ہیلی کاپٹرز اور میزائل بھی نہیں خرید سکے گا۔ رکن ممالک اس بات کو یقنی بنائیں گے کہ ایران درآمد کی جانے والے ایسے تمام سامان کی محتاط طریقے سے تلاشی لی جائے، جس کے بارے میں شک ہو کہ اس میں ایسا سامان شامل ہے، جو ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی ایرانی بینک تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام میں مدد کا مرتکب پایا جاتا ہے تو رقوم کی منتقلی کے لئے اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ارکان کے سمیت کل بارہ رکن ممالک ان پابندیوں کے حق میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ ترکی اور برازیل کا کہنا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران پر پابندیوں کی مخالفت کرنے والے ان ممالک کے ساتھ لبنان کے پاس بھی ویٹو کا حق نہیں ہے، اس لئے ان کی مخالفت پابندیوں کی قرارداد کو منظور ہونے سے نہیں روک سکتی۔

جہادی لٹریچر پر پابندی نہیں بلکہ اسےفروغ دینا چاہئے،منور حسن


کراچی : جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ امریکی مداخلت کی وجہ سے ملک میں سیکولر لابی مضبوط ہورہی ہے، جہادی لٹریچر پر پابندی نہیں بلکہ اسے فروغ دینا چاہئے ۔کراچی پریس کلب میں تقریب سے خطاب میں سید منور حسن نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے ہونے والا جرگہ ناکام ہوا ہے۔ امریکہ اس کے اتحادیوں کو افغانستان میں شکست کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان پوری دنیا میں سامراج کی مزاحمت کررہے ہیں

نیٹو سپلائی پر حملہ، چار افراد ہلاک


وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگ جانی کے قریب نامعلوم شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے افغانستان میں نیٹو فورسز کو سامان کی سپلائی کرنے والے ٹرالرز کوآگ لگا دی۔
ہلاک ہونے والوں میں ٹرالرز کے ڈرائیور اور کلینر شامل ہیں جو اپنے ٹرالرز کے اوپر ہی سو رہے تھے: حکام
حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پیمز کے حکام کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے سات افراد کی لاشیں ہسپتال گئی ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن بنیامین نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی رات کو کیے گئے حملے کے وقت ٹرمینل پر پچاس ساٹھ کے قریب ٹرالر کھڑے تھے جن پر سامان بھی لدا ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے ٹرالرز میں آگ لگائی جس کے نتیجے میں پچاس فیصد ٹرالرز جل گئے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار احمدرضا کو بتایا کہ واقعے میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ٹرالرز کے ڈرائیور اور کلینر شامل ہیں جو اپنے ٹرالرز کے اوپر ہی سو رہے تھے۔
ٹرمینل کی سکیورٹی کے بارے میں ڈی آئی جی نے بتایا کہ وہاں بعض سکیورٹی گارڈ تعینات تھے جنہیں حملہ آوروں نے سب سے پہلے گولیوں کا نشانہ بنایا۔
ان کے بقول عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چھ کے قریب تھی جو حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
جائے حادثہ کے قریب جنگلوں میں ممکنہ طور پر شدت پسندوں کی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے اور ان شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے
ڈی آئی جی بنیامین
انہوں نے کہا کہ جائے حادثہ کے قریب جنگلوں میں ممکنہ طور پر شدت پسندوں کی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے اور ان شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔
پمز اسپتال کے حکام کے مطابق ہسپتال میں سات لاشیں لائی گئی ہیں جن میں پانچ کی شناخت ہوسکی ہے۔ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق چار زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
ڈی آئی جی نے اس بات کو در نہیں کیا کہ اس واقعہ میں کالعدم تنظمیوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوسکتے ہیں تاہم ابھی تک کسی تنظیم کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی اطلاع نہیں ملی۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ نیٹو کو آئل اور دیگر سامان کی فراہمی کے لیے ٹرالرز سنگ جانی کے قریب ایک جگہ پر گُزشتہ چار روز سے کھڑے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں جل چکی ہیں جو قابل شناخت نہیں ہیں جبکہ زخمیوں کوطبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ جس جگہ پر یہ ٹرک کھڑے کیے گئے تھے وہاں پر نجی سیکورٹی کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پولیس اہلکار موجود نہیں تھے۔
مقامی رہائشی نذیر عباسی نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اس سے پہلے بھی اس علاقے میں نیٹو فورسز کو سامان کی فراہمی ٹرالرز اسی جگہ کھڑے ہوتے تھے اور مقامی پولیس کو اس کی اطلاع بھی دی جاتی تھی جس کے بعد اس علاقے میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ پولیس کا گشت بھی بڑھا دیا جاتا تھا لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔
اسلام آباد کی حدود میں نیٹو فورسز کو سامان سپلائی کرنے والے ٹرکوں پر یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس آگ پر قابو پانے کے لیے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے ، فائربرگیڈ اور دیگر عملے نے کارروائی کی۔

سه‌شنبه، خرداد ۱۸، ۱۳۸۹

طبی حوالے سے دی جانے والی آزیتیں۔


انسانی حقوق کے لیے کوشاں ڈاکٹر نامی بین الاقوامی تنظیم ایک رپورٹ منظر عام پر لائی ہے جس میں قیدیوں پر کئے جانے والے غیرقانونی تجربات میں سی آئی اے کے طبی اہلکاروں کی شرکت کے ثبوت پیش کئے گئے ہیں- انسانی حقوق کے محافظین نے بش انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرتے ہوئے انسانی حقوق سے متعلق کئی بین الاقوامی سمجھوتوں کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔
مذکورہ رپورٹ میں قیدیوں کو دی جانے والی ایسی آزیتوں کی مثالیں پیش کی گئی ہیں جو ازمینہ وسطیٰ کی یاد دلاتی ہیں- قیدیوں کو ایک تختی سے باندھ کر ان کے منہ بند کر کے ان کے چہروں پر پانی ڈالا جاتا رہا۔ قیدیوں کو کئی دنوں تک سونے نہیں دیا گیا- ایسی حرکتیں جنگی قیدیوں کے بارے میں برتاؤ سے متعلق جینیوا کنوینشن کی براہ راست خلاف ورزی ہیں، بین الاقوامی قوانین کے روسی ماہر Naum Sonkin نے کہا۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کو ان وارداتوں پر غور کرنا ہوگا- افسوس، اس سلسلے میں سزا دئے جانے سے وابستہ کوئی بین الاقوامی سمجھوتہ موجود نہیں ہے- اور امریکہ تر دوسروں کی کبھی نہیں سنتا- وہ جنیوا کنوینشن کے علاوہ انسانی حقوق سے متعلق کئی دوسری دستاویزات کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کوشاں ڈاکٹر تنظیم کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں جن حرکتوں کا تذکرہ کیا گیا وہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی بلکہ روایتی امریکی اقدار کی پامالی بھی ہیں- یہ بیان مذکورہ تنظیم کے سربراہ فرینک ڈوناہیو نے دیا ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ قیدیوں کے ساتھ انتہائی سخت برتاؤ کیا گیا تھا۔ 2008 میں اس وقت کے سی آئی اے کے سربراہ مائیکل ہیڈن نے اس کا اعتراف کیا- انہوں نے کہا کہ 2002 سے 2006 تک سی آئی اے کے اہلکاروں نے تقریبا ً ایک سو افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان سے پوچھ گچھ کی تھی- اپنے تجربات کے دوران انہوں نے قیدیوں سے حاصل شدہ معلومات کا جائزہ لیا تاکہ موثر ترین آزیتیں منتخب کرکے انہیں زیادہ سے زیادہ آزار پہنچائیں۔
پرامن زمانے میں ایک ایسے ملک میں جو خود کو جمہوریت کی مثال مانتا ہے، اس طرح کی خوفناک حرکتیں کی جائیں تو حکام کو ان پر ضرور توجہ دینی چاہئے، رپورٹ تیار کرنے والے انسانی حقوق کے محافظین نے کہا۔ انہوں نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پچھلی انتظامیہ پر عائد کئے جانے والے الزامات کے بارے میں تحقیقات کی جائیں اور جرائم ثابت ہونے کی صورت میں مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

طالبان کا فیصلہ:گولی مار کر ہلاک کر دیا


قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے دو بھائیوں کے قتل کے الزام میں ایک شخص کو سرِعام گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صُبح نو بجے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے پچیس سالہ وحید کو شہر کے قریب ایک کُھلے میدان میں سر عام فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وحید کے آنکھوں پر پٹی لگائی گئی تھی جبکہ ان کے ہاتھوں کو پیھچے سے باندھ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقعے پر پانچ سو سے لے کر سات سو کے قریب عام لوگ موجود تھے۔
ایک سرکاری اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے شخص کی لاش میرانشاہ کے قریب سے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ وحید کو دو بھائیوں کے قتل کے الزام میں مقامی طالبان کے شوریٰ کے ایک فیصلے کے بعد ہلاک کیاگیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق پچیس دن پہلے میرانشاہ بازار کے ایک حصے میں واقع سائیکل گراؤنڈ میں وحید نے دو سگے بھائیوں نور زیب اور عالم زیب کو معمولی تکرار کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد طالبان جنگجو نے وحید کو گرفتار کرکے نامعلوم پر منتقل کردیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نور زیب اور عالم زیب دونوں میرانشاہ ڈگری کالج کے طالب علم اور حیدر خان کے بیٹے تھے۔
یاد رہے کہ چند سال پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے میرانشاہ میں ڈاکے، رہزنی اور قتل کے الزام میں دو درجن سے زائد لوگوں کو سرعام سزا دی تھی۔ اور ان کے لاشیں کئی دن تک درختوں کے ساتھ لٹکائی گئی تھیں۔

سات امریکیوں سمیت دس غیر ملکی فوجی ہلاک


حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مختلف پر تشدد واقعات میں سات امریکی فوجیوں سمیت کم از کم دس غیر ملکی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
پیر کو ہوئی یہ ہلاکتیں گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
امریکی فوج کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق پانچ فوجی مشرقی افغانستان میں سڑک میں نصب کیے گئے بم کے دھماکے میں ہلاک ہو گئے جب کہ دو فوجی جنوبی علاقوں میں پیش آئے بم دھماکے اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے۔
ادھر نیٹو نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کے تین اہلکار مشرقی اور جنوبی علاقوں میں کیے گئے حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں ۔
فرانسیسی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ایک فوجی افغان دارالحکومت کابل کے شمال مشرق میں واقع صوبہ کاپیسا میں کیے گئے ایک راکٹ حملے میں ہلاک ہوا جب کہ آسٹریلوی فوج کے قائم مقام سربراہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ افغانستان کے جنوبی صوبے ارضگان میں ایک بم دھماکے میں آسٹریلیا کے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
دریں اثنا امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تین خودکش حملہ آوروں نے قندھار شہر میں واقع افغان پولیس کے تربیتی مرکز پر حملہ کیا جس میں ایک امریکی ٹرینر اور ایک نیپالی گارڈ ہلاک ہو گیا۔
واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں کی جانب سے کی جانے والی پر تشدد کارروائیوں میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب بین الاقوامی سکیورٹی فورسز جنوبی افغانستان میں ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہی ہیں۔
گذشتہ ہفتے کابل میں ہوئے قومی جرگے کے شرکاء نے افغانستان میں امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی تھی۔

چمن :لیویز فورس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ 3اہلکارزخمی، ڈاکو ہلاک


کوئٹہ : کوئٹہ چمن شاہراہ پر گلستان کے قریب لیویز فورس کا ڈاکووں کے ساتھ مقابلہ ایک ڈاکو ہلاک،لیویز اہلکاروں سمیت تین زخمی ہوگئے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی نے زخمی لیویز اہلکاروں کے لئے پچاس ،پچاس ہزار روپے انعام کا اعلان کردیا۔ اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گلستان کے علاقے میں ڈاکووں نے ایک پک اپ گاڑی کو ڈرائیور سمیت اغواء کر لیا ،اطلاع ملنے پر لیویز فورس کے ڈاکووں کیساتھ فائرنگکے تبادلے میں دو لیویز اہلکار نعمت اللہ اور محمد نسیم شدید زخمی ہوگئے جبکہ لیویز کی فائرنگ سے ایک ڈاکو محمد امین موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا ڈاکو بشیر کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا

دوشنبه، خرداد ۱۷، ۱۳۸۹

افغانستان: بم دھماکوں اور فائرنگ میں دس اتحادی فوجی ہلاک


کابل: افغانستان میں بم دھماکوں اور فائرنگ میں دس اتحادی فوجی ہلاک ہوگئے ۔ نیٹو حکام کے مطابق مشرقی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم دھماکے میں پانچ اتحادی فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی علاقے میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو اتحادی فوجی مارے گئے۔ اس سے قبل جنوبی افغانستان میں بم دھماکے میں تین اتحادی فوجی ہلاک ہوئے جن ایک امریکی فوجی بھی شامل ہے۔

پاک فوج کے دو ہیلی کاپٹر اور طیارہ امداد لیکر گوادر پہنچ گیا


کوئٹہ: بلوچستان کے بارشوں سے متاثرہ افراد کیلئے امدادی سامان لے کر پاک فوج کے دو ہیلی کاپٹر اورسی ون تھرٹی طیارہ گوادر پہنچ گیا۔پاک فوج کی جانب سے ایک کروڑ روپے کے بھجوائے گئے سامان میں چار ہزار کمبل ، پانچ سو خیمے ، دو ہزار رضائیاں اور کھانے پینے کی چیزیں شامل ہیں۔ یہ امدادی سامانگوادر اور پسنی کے متاثرین کیلئے پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کے زیر انتظام قائم کیمپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جبکہ دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں متاثرین کیلئے امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

جہاز پر اسرائیل کا قبضہ، ناکہ بندی توڑنے کیلئے ترک وزیراعظم کا خود غزہ جانے کااعلان


مقبوضہ بیت المقدس،انقرہ( ايجنسياں) اسرائیل نے غزہ کیلئے امدادی سامان لے جانے والے آئرلینڈ کے جہاز پر بھی قبضہ کر لیا جبکہ امریکا نے کہا ہے کہ غزہ کا محاصرہ ناقابل برداشت ہے ۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل بان کیمون نے کہاہے کہ غزہ کے محاصرہ نے سخت انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، اسرائیل فوری طور پر غزہ سے پابندی اٹھائے، انہوں نے کہا کہ حالیہ اسرائیلی حملہ کی فوری تحقیقات کرائی جائیں گی۔وائٹ ہاؤس نیشنل سیکورٹی کے ترجمان مائیک ہیمر نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ غزہ کا اسرائیلی محاصرہ ناقابل برداشت ہوچکا ہے، امریکا سمجھتا ہے کہ اسرائیل کوطریقہ کار تبدیل کرنا ہوگا۔ مائیک ہیمر نے کہا کہ محصورین غزہ تک امداد کی فراہمی امریکا کی ذمہ داری ہے۔ وائٹ ہاوٴس نے اسرائیل کوتنبیہ کی ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی فوری ختم کردے ۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے حملہ کے بعد کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔بحری جہاز کے ایک امدادی کارکن نے بتایاکہ اسرائیل نے غزہ سے پچپن کلو میٹر دورجہاز پر قبضہ کیا۔رچل کوری نامی آئرش جہاز پر شمالی آئرلینڈ کے نوبل انعام یافتہ میریڈ میگوائر اوراقوام متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل ڈینس ہیلی ڈے بھی سوار ہیں۔اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں قیام پذیر حماس کے چار ارکان پارلیمنٹ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا ہے ۔
ترک وزیراعظم کامحصورفلسطینیوں کیلئے امداد خودلے جانے کااعلاناستنبول

۔ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لئے امدادسامان خود لے جانے کا اعلان کردیا۔آج نیوز کے مطابق ترک وزیراعظم نے محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان خود لے جانے کا اعلان کردیا ہے۔وزیراعظم طیب اردگان اور بحری جہاز کی حفاظت کے لئے ترک بحریہ بھی ساتھ ہوگی۔

طالبان کے خوف سے افغان صدر کا فیصلہ


افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے طالبان اور دوسر ے عسکریت پسندوں سے وابستہ تمام قیدیوں کے مقدمات کا از سرِنو جائزہ لینے کا حکم جاری کیا ہے۔
پچھلے ہفتے کابل میں ہونے والے قومی امن جرگے میں ملک میں تقریباََ نو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جو مطالبات کیے گئے تھے اتوار کو جاری ہونے والا صدارتی حکم نامہ اُنھیں پورا کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔
صدر کرزئی کے دفتر نے کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کے مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لینے والی کمیٹی میں سپریم کورٹ ، حکومت کے قا ئم کردہ مصالحتی کمیشن اور وزارت انصاف کے عہدے داروں کے علاوہ دوسر ے عدالتی افسران کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔
لگ بھگ 1600 افغان سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے کابل میں ہونے والے تین روزہ جرگے میں شرکت کی تھی ۔ جمعہ کو جرگے کے اختتامی سیشن میںمنظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ افغان اور غیر ملکی افواج کی حراست میں ایسے افراد کو رہا کردیا جائے جنہیں ناکافی شواہد کے باوجود قیدمیں رکھا گیا ہے۔
قراداد میں ایک ایسے کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کی قیادت کرے۔ لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان باغیوں نے امن بات چیت میں شمولیت کو افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی سے مشروط کر رکھا ہے۔
امن جرگے میں منظور کی گئی قرارداد میں امن کے عمل میں شامل ہونے کے خواہشمند طالبان سے کہا گیا ہے کہ وہ القاعدہ اور دوسرے دہشت گروہوں سے اپنا تعلق ختم کردیں۔ اس کے علاوہ امن عمل میں شمولیت اختیار کرنے والے طالبان عسکریت پسندوں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لِسٹ سے خارج کرنے کا مطالبہ بی قرارد کےمیں شامل کیا گیا ہے۔

اسرائیل کو ترکی میں ہونے والی فضائی مشقوں سے نکال دیا گیا


ترکی کے وسط میں ایک ائر فورس بیس پر ہونے والی فضائی مشقوں میں اسرائیل شرکت نہیں کر ے گا۔ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے میں نو ترک رضاکاروں کی ہلاکت کے بعد ترکی نے اعلان کیا تھا کہ وہ پہلے سے طے شدہ تین جنگی مشقوں میں اسرائیل کو شرکت کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ترک فوج کے جنرل سٹاف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "انطالین ایگل" فضائی مشقیں 7-18 جون کو ترک کے وسطی صوبے کونایا کی ائر بیس ہونا قرار پائی تھیں۔ ان میں امریکا، متحدہ عرب امارات، اٹلی، سپین اور نیٹو نے شرکت کریں گے۔ ترک فوج کی ویب سائٹ پر اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا اسرائیل کو ان مشقوں سے حتمی طور پر شرکت سے روک دیا گیا ہے؟گذشتہ برس تک اسرائیل انطالین فضائی مشقوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ترکی نے صہیونی سیاسی قیادت سے شدید احتجاج کرتے ہوئے دھکمی دی تھی کی تل ابیب کی جانب مستقبل میں کسی ایسی جارحیت کی صورت میں سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔

یکشنبه، خرداد ۱۶، ۱۳۸۹

ایران میں موسوی، کروبی سمیت اصلاح پسندوں کی گرفتاریوں کا خدشہ


العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے اصلاح پسند رہ نماوں نے اپنی گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اصلاح پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ مرشد علی خامنہ ای کا خطاب ان گرفتاریوں کے لئے گرین سنگل ہے اور ان کی زد میں میر حسین موسوی اور مھدی کروبی بھی آ سکتے ہیں۔اصلاح پسندحلقے ایرانی انقلاب کے خمینی کی برسی پر مرشد علی خامنہ ای کی تقریر کو میرحسین موسوی اور مھدی کروبی پر دباو بڑھانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یاد رہے کہ علی خامنہ ای نے اپنی تقریر میں مغرب، اسرائیل اورایرانی حکومت کے خلاف برسرپیکار حزب اختلاف کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔مرشد نے اصلاح پسند رہ نماوں کو ولایہ الفقیہ کی صف سے باہر نکالتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ امامت اور ولایت کے منصب کے لائق نہیں۔ اس لئے انہیں گزند پہنچانا اور گرفتار کرنا خارج از امکان نہیں۔ادھر دوسری جانب خمینی کے پوتے پر اپنے دادا کی قبر کی زیارت کے موقع پر تشدد کا معاملہ بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ متعدد دینی رہ نماوں نے اس زیادتی کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔سرکردہ دینی رہ نماوں زنجابی اورعلی محمد دستغیب نے اپنے بیانات میں حسن الخمینی پر اپنے دادا کی برسی کے موقع پر خطاب کے دوران احمدی نژاد کے کارندوں کی جانب سے تشدد کی بھر پور مذمت کی ہے۔ایرانی حکومت کو جوابدہ الباسیج ملیشیا نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی کے پوتے کو اپنی پرتشدد کارروائی کے بعد اپنا خطاب منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا۔ایرانی مجلس شوری کے اسپیکر علی لاریجانی کے داماد علی مطھری کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ احمدی نژاد کی پلاننگ کے بغیر رونما نہیں ہو سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے اپنے حامیوں کو برسی کے موقع پر ہونے والے پروگرام میں جمع کیا اور پھر انہیں موسوی کے خلاف نعرے بازی کرنے کو کہا۔اسی سلسلے میں احمدی نژاد نے حکم صادر کیا کہ میر موسوی کی سیاسی سرگرمیوں میں شرکت مجرمانہ فعل گردانی جائے گی۔ انہوں نے سیکیورٹی حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ میر موسوی سے ملاقات اسلامی جمہوریہ ایران میں سرخ لائن عبور کرنے کے مترادف ہے۔

اسرائیلی عورتوں کے شوہرمصریوں کی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ


مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے اسرائیلی عورتوں سے شادیاں کرنے والے مصری مردوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے ایک ماتحت عدالت کا فیصلہ برقراررکھا ہے اور اس سلسلہ میں وزارت داخلہ کو اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔قاہرہ کی سپریم انتظامی عدالت کے جج محمد الحسینی نے اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ وزارت داخلہ اسرائیلی عورتوں سے شادیاں کرنے والے مردوں کی شہریت منسوخ کرنے اور ان کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کابینہ کو اقدامات کرنے کا کہے۔جج نے قراردیا ہے کہ ہرکیس کا الگ الگ جائزہ لیا جانا چاہیے۔عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جاسکتی۔ عدالت میں اس کیس کو دائر کرنے والے وکیل نبیل الوحش کا کہنا تھا کہ ''مصر کے قومیت سے متعلق قوانین میں صہیونیوں سے شادی کے بارے میں خبردارکیا گیا ہے''۔اس فیصلے سے مصریوں کے اسرائیل کے بارے میں جذبات واحساسات کی عکاسی ہوتی ہے اور یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مصریوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو آج تک قبول نہیں کیا۔واضح رہے کہ مصر پہلا عرب ملک تھا جس نے اکتیس سال قبل 1979ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا اور اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ وکیل نبیل الوحش کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو اس لیے عدالت میں لائے ہیں تاکہ ایک ایسی نسل کی تخلیق سے بچاجاسکے جو مصر اور عرب دنیا کی غیر وفادارہو''۔انہوں نے کہا کہ ایسی شادیوں کے نتیجے میں پیداہونے والے بچوں کو فوج کی ملازمت نہیں دی جانی چاہیے۔وحش کے مطابق اسرائیلی عورتوں سے شادیاں کرنے والے مصری مردوں کی حقیقی تعداد کے بارے میں حکام نے اعدادوشمار فراہم کرنے سے انکار کیا ہے لیکن ان کے بہ قول ایسے مردوں کی تعداد تیس ہزارکے لگ بھگ ہے اوران میں سے صرف دس فی صد ایسے ہیں جنہوں نے عرب اسرائیلی خواتین سے شادیاں کررکھی ہیں۔گذشتہ سال مصر کی ایک ماتحت عدالت نے اپنے فیصلے میں قراردیا تھا کہ ملک کے وزیرداخلہ کو مصری مردوں کی اسرائیلی خواتین سے شادیوں اور ان کے بچوں کے کیسز کا جائزہ لینا چاہیے اور انہیں قومیت سے محروم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔مصر کی وزارت داخلہ اورخارجہ نے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ انتظامی عدالت میں اپیل دائرکی تھی اورانہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمان کو ایسے کیسز کے بارے میں فیصلے کا اختیارحاصل ہے۔نبیل وحش کا کہنا تھا کہ ہزاروں مصری 1990ء کی عراق،کویت جنگ کے دوران کام کی تلاش میں اسرائیل چلے گئے تھے جہاں انہوں نے صہیونی عورتوں سے شادیاں رچالی تھیں۔ان میں سے بیشتراسرائیل منتقل ہونے سے پہلےعراق میں روزگارکے سلسلے میں مقیم تھے۔

شنبه، خرداد ۱۵، ۱۳۸۹

خطے میں دہشت گردی کی جڑ اسرائیل ہے، خطیب اہل سنت


خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیل کی سفاکانہ حملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا صہیونی ریاست ایک قابض اور جارح ریاست ہے۔ صہیونی متکبرین جارحیت ودرندگی میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرکے مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔
اسرائیل نے امدادی کارکنوں کے ساتھ جو کچھ کیا یہ اس بات کاثبوت ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جو عالمی سطح پر دہشت گردانہ کارروائیوں سے بھی گریز نہیں کرتا۔حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے مزید کہا انتہائی حیران کن بات یہ ہے کہ جو ممالک اور تنظیمیں دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ لگاکر گلا پھاڑ رہے ہیں وہی لوگ اسرائیل کی پشت پناہی کررہے ہیں جو دن رات فلسطینی عوام کو قتل یا پھر قیدکرنے اور غائب کرنے میں مصروف ہے۔غزہ کے غیرانسانی محاصرے اور نہتے فلسطینیوں کی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا غزہ کامحاصرہ ظالمانہ ہے۔ ان کے پاس نہ کھانے پینے کی اشیاء ہیں نہ علاج کیلیے دوائیاں، ایسے میں جب ایک قافلہ امدادی سامان لیکر انسان دوستی جذبے کے تحت غزہ کارخ کرتاہے تو انتہائی بے شرمی اور درندگی کے ساتھ اسرائیل کی قزاقی اور ریاستی لوٹ مارکانشانہ بنتاہے۔اسرائیل کی اس وحشیانہ کارروائی کو انسانیت پرحملہ اور خطے میں بدامنی کی جڑ قرار دیتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا اقوام متحدہ، امن کونسل و دیگر عالمی تنظیموں ، اسی طرح امریکا، چین، روس اور امن کونسل کے رکن ممالک سمیت پوری دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک اسرائیل اپنی انسانیت دشمن سرگرمیوں اور عالمی قوانیں کیخلاف حرکتوں سے باز نہیں آئے گا اس وقت تک خطے میں ہرگز امن نہیں آئے گا۔ پورے علاقے میں جتنے بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے ہیں ان کی بنیادی وجہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں اور رویہ ہے۔اگر کمزوروں اور احتجاج کرنے والوں کی آواز اور مظلوموں کی چیخیں نظرانداز ہوتی رہیں تو امن بھی ایک تمنا سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔ کیا وہ وقت نہیں آیا ہے کہ بڑی طاقتیں دنیامیں مظلوموں کی بات سنیں، ان کی آراء کا احترام کریں، اسلامی ممالک پر سے اپنا قبضہ ختم کرکے لوگوں کو آزاد چھوڑیں کہ جس طرح چاہیں حکومت کریں۔ امن وسکوں کی راہ اپناتے ہیں یا جنگ وخونریزی کی، ان کی مرضی ہے۔بین الاقوامی تنظیموں کو مخاطب کرکے عظیم سنی رہنما نے کہا اسرائیل کی اس برملا سفاکی اور سنگ دلی کے حوالے سے عالمی تنظیموں اور حکومتوں کو انصاف سے کام لینا چاہیے۔ غزہ کے محصورین کے ساتھ جو کچھ ہورہاہے وہ انسانی حقوق کی واضح خلاف روزی ہے۔ حقوق انسانی کیلیے کام کرنے والی تنظیموں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ پوری دنیاسمیت بین الاقوامی اداروں کوغزہ کا محاصرہ ختم کرنے کیلیے اپنی کوششیں بروئے کار لانا چاہیے۔اپنے بیان کے پہلے حصے میں بانی انقلاب خمینی کی برسی کی مناسبت سے بات کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا جس تحریک کی قیادت آیت اللہ خمینی نے کی اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایران کے سارے عوام اور جماعتوں کی بات سننی خمینی کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب کے ایک اہم نعرہ شیعہ سنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا خمینی کی ایک بات مجھے یاد ہے کہ کہاکرتے تھے "شیعہ وسنی اور ان کے حقوق برابر ہیں۔" جب مولانا عبدالعزیز(بانی دارالعلوم زاہدان) نے ان سے تہران میں مسجد تعمیر کرنے اجازت طلب کی تو انہوں نے اس کی اجازت دی لیکن انتہاپسند اور تنگ نظر عناصر کی مداخلت کی وجہ سے آج تک اہل سنت والجماعت دارالحکومت تہران میں مسجد سے محروم ہے۔سنی برادری اور حکام کے درمیاں موجود خلیج کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بات آگے بڑھائی: افسوس کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے چند سنی ممبرز کے علاوہ اعلی حکام سے رابطے کیلیے ہمارا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس لیے اعلی حکام کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کیلیے ہمیں مشکلات درپیش ہیں۔انہوں نے مزید کہا صدر کے مشیر برائے اہل سنت بھی یہ خلیج پرکرنے سے قاصرہے۔ اکثر ان سے مشورہ بھی نہیں کیاجاتاہے۔ بلکہ وہ طویل عرصے تک صدر سے ملاقات کی خواہش بھی پوری نہیں کرسکتے۔ ایک مرتبہ کسی کام کیلیے میں ان سے ملنے تہران گیا تو انہوں نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ ایک سال ہوچکاہے کہ صدراحمدی نژاد سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی ہے! ایک صدر اور اس کے مشیر کے تعلق کا جب یہ حال ہو تو ہم کیسے امید رکھیں کہ وہ ہمارے مسائل حل کرسکیں گے؟مولانا عبدالحمید نے مزید کہا اہل سنت اس ملک کے باشندے ہیں اور اس کا جزو ہیں۔ دینی و ملی حقوق کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتے۔ امید ہے کہ بانی انقلاب کی اس بات کو جامہ عمل پہنایاجائے کہ شیعہ و سنی کے حقوق برابر ہیں اور سنی مسلمان ایران میں اپنے کامل اور قانونی حقوق حاصل کریں۔

چار سالہ بچہ ساتویں منزل سے گرا خراش تک نہیں آئی


میامی: جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔میامی میں چار سالہ بچہ ساتویں منزل کے گرنے کے باوجود معجزانہ طور پر بچ گیا۔ پولیس کے مطابق چار سالہ جوائے ولیمز سترہویں منزل سے اپنے فلیٹ کی بالکونی سے نیچے گرا اور دسویں منزل کی جھاڑیوں بھری چھت پر گر گیا۔بچے کے دادا کے مطابق پام کے درختوں اور جھاڑیوں نے ولیمز کو چوٹ سے بچایا۔جس کے بعد فوری طور پر بچے کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کے کئی ٹیسٹ کئی گئے لیکن حیرت انگیز طور پر کسی قسم کی اندرونی چوٹ نہیں تھی ۔اس کے باوجود بچے کو رات بھر اسپتال میں آبزرویشن میں رکھا گیا لیکن کسی قسم کی تکلیف ظاہر نہ ہونے پر ڈسچارج کر دیا تھا۔

ایرانی فوجیوں کی عراقی علاقے میں کردباغیوں کے خلاف کارروائی


ایرانی فوجیوں نے آج گذشتہ تین روز میں دوسری مرتبہ عراق کی سرحد عبورکرکے قندیل کے پہاڑی علاقے میں کردباغیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ایرانی فوجیوں نے حالیہ دنوں میں کردباغیوں کی جماعت فری لائف آف کردستان (پی جے کے اے )کے خلاف جھڑپوں کے بعد عراق کی علاقائی حدود میں دراندازی کی ہے جبکہ بغداد میں متعین ایرانی سفیر کو بھی اس صورت حال پرعراقی وزارت خارجہ میں طلب کر کے ان سے تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔ عراق کے خودمختارکردعلاقے میں سکیورٹی فورس پیش مرگا کے ایک ترجمان نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ ''ایرانی فورسزکے اہلکاردوروزقبل جمعرات کو بھی حاجی عمران کے علاقے میں داخل ہوئے تھے''۔ترجمان میجرجنرل جباریاورنے بتایا ہے کہ '' بھاری ہتھیاروں سے مسلح ایرانی فوجیوں کی تعداد تیس سے زیادہ تھی اوروہ بکتربند گاڑیوں پرسوار تھے''۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فوجی عراقی علاقے میں دوکلومیٹر اندر تک گھس آئے تھے جبکہ دوروزقبل وہ تین کلومیٹرتک اندرداخل ہوئے تھے اوران کی کردباغیوں سے جھڑپیں ہوئی تھیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران نے پی جے اے کے سے تعلق رکھنے والے باغیوں کے ٹھکانوں پرسرحدی علاقوں میں متعددمرتبہ گولہ باری کی ہے اورہیلی کاپٹروں سے بھی حملے کیے ہیں۔31مئی کوعراق کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کردباغیوں کے ٹھکانوں پرایران اور ترکی کے حملوں کے بعد دونوں ممالک کے سفیروں کو الگ الگ طلب کیا گیا ہے اور سرحدی علاقوں میں ان کی بمباری اور فضائی حملوں پر گہری تشویش ظاہرکی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''وزارت خارجہ نے دونوں ممالک پر زوردیا ہے کہ ان حملوں اورسرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روک دیا جائے کیونکہ اس سے تینوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات پرمنفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ترکی نے 20 مئی کو شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جبکہ 31مئی ترکی کے ایک بحری اڈے پر راکٹ حملے میں چھے فوجی مارے گئے تھے۔پی کے کے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔واضح رہے کہ شمالی عراق سے تعلق رکھنے والے کردباغیوں کی جماعت فری لائف آف کردستان،پی کے کے کی قریبی اتحادی ہے جو1984ء سے مشرقی ترکی میں خودمختار حکمرانی کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کررہی ہے۔اس جماعت کو یورپی یونین اور امریکا نے دہشت گرد قراردے رکھا ہے۔ گذشتہ ماہ ایرانی فوجیوں کی عراق کے سرحدی محافظوں سے جھڑپ ہوئی تھی۔ایرانی فوجی غلطی سے سرحدی محافظوں کو کردباغی سمجھ بیٹھے تھےاورانہوں نے ایک عراقی افسرکو گرفتار بھی کرلیا تھا جسے بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

امریکہ میں عورت کی نماز جمعہ کاامامت


ڈاکٹر امینہ کا یہ اصرار ہے کہ اسلام ہی انہیں یہ سکھاتا ہے کہ ایسی روایات جو اسلام کی ابتدا میں ایک خاص تاریخی اور ثقافتی پس منظر میں اس کا حصہ بنائی گئی تھیں اب تبدیل کر دینی چاہئیں۔ انہوں نے کینیڈا کے اس لیکچر کے دوران کہا تھا کہ ’یہ قرآن ہی ہے جو مجھے یہ راستہ دکھاتا ہے کہ انکار کیسے کیا جائے۔‘
لیکن انہیں امریکہ میں اتنی سخت مخالفت کا سامنا ہے کہ جمعے کے نماز کی امات کرنے کے لئے منتظمین کو دھمکیوں کی وجہ سے نماز کا مقام تبدیل کرنا پڑا۔

القاعدہ کے ہاتھوں یمنی فوج کے کرنل کا قتل


یمن کے دارلحکومت صنعاء سے العربیہ ٹی وی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ القاعدہ کے مسلح جنگجووں نے یمنی فوج کے ایک حاضر سروس کرنل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔عینی شاہدوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ کرنل الشائف کو مارب شہر اور تیل صاف کرنے والی ریفائینریز کو ملانے والی شاہراہ پر خود کار اسلحے سے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ حملہ آور القاعدہ کے العثیلی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔اس قاتلانہ حملے میں انٹلیجنس یونٹ 315 کے اور اعلی افسر کو بھی زخم آئے، حملے میں کرنل الشائف کے ہمراہ سفر کرنے والے میجر محمد صالح الجوفی بھی شدید زخمی ہوئے۔ انہیں مقامی اہسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کرا دیا گیا ہے۔مارب پریس نامی ویب پورٹل سے بات کرتے ہوئے نامعلوم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے جنگجو علاقے کو کمان کرنے والے کرنل محمد علی المقدشی کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن کرنل الشائف کی گاڑی اصل ہدف سے پہلے جنگجووں کی فائرنگ کا شکار ہو گئی۔

ایران کے خلاف پابندیوں پر اتفاق ہوچکا، روسی صدر


برلن : روسی صدر میدویدیف نے کہاہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے حق میں نہیں، تاہم قراردا پر اتفاق ہوچکاہے۔ برلن میں جرمن چانسلر اینجلا مرکل سے ملاقات کے بعد مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا توقع ہے ایران عالمی برادری کی تشویش سے آگاہ ہے۔ اور تہران اس تشویش کو ختم کرے گا۔ جرمن چانسلر نے کہاکہ سلامتی کونسل کے ارکان میں ایران پر پابندیوں کی قرارداد پر اتفاق ہوچکاہے۔ ایران پر نئی پابندیاں کا اعلان جلد ہوگا۔ اس سے پہلے دونوں صدر نے برلن سے باہر صدارتی محل میں ملاقات۔ جس افغانستان سمیت دیگر عالمی امور اور دونوں ملکوں میں تجارت و تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔

محلے داروں کے ہاتھوں بکنے والی لڑکی لاہور پہنچ گئی


لاہور: دو ماہ قبل لاہور سے اغوا ہونے والی چودہ سالہ بچی تھانہ ساندہ پہنچ گئی جبکہ بچی نے الزام لگایا ہے کہ اس کے محلے داروں نے اسے چند ہزار روپوں کے عوض بیچ دیا تھا۔ساندہ کی رہائشی مقدس نور نے بتایا ہے کہ اسے دو ماہ قبل اس کے چند محلے داروں نے اغوا کرکے دھرم پورہ میں واقع ایک قبحہ خانے میں رکھا جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا، اور بعدازاں چونتیس ہزار روپوں کے عوض کراچی کے کسی فرد کے ہاتھ بیچ دیا ،جہاں سے بھاگ کر وہ لاہور واپس پہنچی ہے۔ چودہ سالہ بچی مقدس اور اس کے والد نور احمد کی درخواست پر پولیس تھانہ ساندہ نے دو خواتین مقدس اور کرن کو ان کے بھائی اطہر عباس سمیت گرفتار کرلیا ۔اور انکے خلاف ایف ائی آر بھی درج کرلی گئی ہے۔ تاہم ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزمان کو پولیس کی حراست سے چھڑانے کے لیے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود احمد کے قریبی عزیز بھی پولیس پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملزمان سے تفیش جاری ہے اور جلد انہیں عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔

سمندری طوفان اتوارکوپاکستان کےساحل سے ٹکرائے گا


کراچی: محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ سمندری طوفان اتوار کو پاکستان کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔ بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں پیر تک جاری رہنے والی بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔اتوار اور پیر تک بارشوں کا سلسلہ پاکستان کے اکثر میدانی علاقوں تک پھیل جائے گا۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گوادر سمیت بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں موسلہ دھار بارش جاری رہے گی۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں بھی منگل تک موسلہ دھار بارش جاری رہے گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، بالائی پنجاب، بالائی خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے۔حب میں سمندری طوفان کے پیش نظر ساحل سمندر پر لیویز اہلکار تعینات کر دئیے ۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں ڈام ، سونمیانی اور گڈانی کی سرکاری عمارتیں ریلیف کیمپ میں تبدیل کر دی گئی ہیں ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان کے باعث چھ سے آٹھ میٹر بلند لہرین پیدا ہو ں گی ۔ کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ایمرجنسی نافظ کرکے وہاں سے آبادی کے انخلاء کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔ سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی کی دونوں بندرگاہوں کو بھی خالی کروا لیا گیا ہے ۔ دو ہزار سات کی طوفانی بارشوں کے باوجود کراچی میں گندے پانی کے اخراج کا مرکزی نالہ نہر خیام تمام تر دعووں کے باوجود صفائی نہ ہونے کے باعث بند پڑا ہے ۔ اور ایک بار پھر کلفٹن اور ڈی ایچ اے جیسے علاقوں کے ڈوب جانے کا خطرہ ہے ۔ دوسری جانب سٹی گورنمنٹ کے اہم خدمات کے محکموں میں ایمرجنسی نافذ کرکے ملازمین کی ہفتہ وار تعطیلات موخر کر دی گئی ہیں ۔ سندھ کے ساحلی علاقے زیروپوائنٹ اور کیٹی بندر سے دو ہزار سے زائد افراد کو کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے تاہم سہولیات کی کمی کی وجہ سے بیشتر افراد کیمپوں میں منتقل نہیں ہورہے جنہیں نکالنے کے لیے رینجرز کو طلب کیا جائے گا .ٹھٹھہ میں کیٹی بندر کے دورے کے موقع پر وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو فوج کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے

افغان جرگہ طالبان کو مذاکرات کی دعوت دینے پر رضامند


کابل: افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان کوامن مذاکرات کی دعوت دینے کے لیے جرگے کی حمایت حاصل کرلی ، امریکا نے بھی صدرکرزئی کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے ۔ جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ جب تک غیر ملکی افواج ملک نہیں چھورٹے تب تک مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے ۔کابل میں تین روزہ جرگے کے آخری روزصدر حامد کرزئی نے جرگے کو اپنے امن منصوبے کے لیے قومی حمایت حاصل کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جس کے تحت طالبان جنگجوٶں کو ہتھیار پھینکنے کے بدلے میں عام معافی، نقد رقوم اور ملازمتوں سمیت مراعات کی پیش کش کی جائے گی جبکہ طالبان کی سرکردہ شخصیات کو کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ کے انتظام کی پیش کش بھی کی جائے گی ۔ جرگے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ شرکاء میں یہ وسیع تر اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کیونکہ امریکا کی قیادت میں نیٹو فورسز اور کمزور افغان آرمی مل کر افغانوں کو امن وسلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

جمعه، خرداد ۱۴، ۱۳۸۹

سعودی حکمرانوں کو خطرناک نتائج بھگتنا ہونگے،القاعدہ کی دھمکی


دبئی : سعودی عرب میں خاتون رہنما کی گرفتار پر القاعدہ نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سعودی حکمرانوں کے اس کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔ دبئی سے جاری آڈیو پیغام میں القاعدہ رہنماسعید الشہری نے کہا کہ القاعدہ کے افراد خاتون رہنما کی رہائی کے لے سعودی عرب میں شاہی خاندان کے افراد، حکام اور وزرا کو کو نشانہ بنائیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی کہ حکام کو اغوا کیا جائے تاکہ حیلہ القیصر کی رہائی ممکن ہو۔ القاعدہ کی خاتون رہنما حیلہ القیصر کو گذشتہ روز ریاض کے شمالی علاقے قاسم سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر القاعدہ میں خواتین کی بھرتی اور انھیں عسکری تربیت دینے کا الزام ہے۔

پنجشنبه، خرداد ۱۳، ۱۳۸۹

ایران کے خلاف پابندیوں کے لیے قراردادپر21جون کو رائے شماری


امریکا نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے خلاف نئی سخت پابندیاں عاید کرنے کے لیے 21جون کو قرارداد منظورکرلے گی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ کراولے نے جمعرات کوصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم آیندہ چند دنوں میں اس قراردادکو سلامتی کونسل میں پیش کرنے والے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی برادری کے تمام ذمہ دارممالک اس کی حمایت کریں گے''۔ترجمان نے کہا کہ صدربراک اوباما موسم بہارکے اختتام تک قراردادکی منظوری چاہتے ہیں۔بعدمیں انہوں نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قراردادپر 20 یا21جون کو رائے شماری کا امکان ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سنئیرعہدے دار نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا ہے کہ ''اب سے 20 جون کے درمیان کسی بھی وقت اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رائے شماری ہوگی''۔ اس عہدے دار کا کہنا تھا کہ گذشتہ سوموار کو جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔امریکا نے ایران کے خلاف اس کے جوہری پروگرام کے معاملے پرنئی سخت پابندیاں عاید کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گذشتہ ماہ قراردادپیش کی تھی جس میں ایران پر اسلحے کی خریدوفروخت اور اس کے بنک کاری نظام پرتحدیدات لگانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔قراردادکے تحت ایران پر بیرون ملک یورینیم کی افزودگی اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے متعلق سرگرمیوں پربھی پابندیاں لگادی جائیں گی۔امریکا کا کہنا ہے کہ اسے سلامتی کونسل کے ویٹو طاقت کے حامل چاردوسرے مستقل رکن ممالک روس،چین،برطانیہ اورفرانس کی بھی حمایت حاصل ہے۔ایران پر اس سے پہلے یورینیم کی افزودگی سے متعلق سرگرمیاں معطل نہ کرنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تین مراحل میں پابندیاں عایدکررکھی ہیں۔ امریکا کے سنئیر عہدے داروں نے گذشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ وہ سلامتی کونسل کے دوغیر مستقل رکن ممالک برازیل اور ترکی کی حمایت کے بغیر قراردادمنظورکرانے کی کوشش کریں گے۔ان دونوں ممالک نے حال ہی میں ایران کے لیے افزودہ یورینیم کے تبادلے کا معاہدہ کرایا ہے جس کا مقصد ایران پر نئی پابندیوں کو موخر کرنا ہے۔جوہری ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران نے حساس جوہری کام جاری رکھا ہوا ہے اور اس نے پانچ کلوگرام اور سات سوگرام اعلیٰ درجے کی یورینیم افزودہ کرلی ہے۔ادارے نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کی حقیقی نوعیت کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ایرانی وزیرخارجہ منوچہرمتکی نے گذشتہ روز خبردار کیا تھا کہ''ان کے ملک پر جوہری پروگرام کے معاملے پراقوام متحدہ کی نئی پابندیوں سے محاذآرائی کی راہ ہموار ہوگی''۔انہوں نے کہا کہ ''ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے کو طے کرنے کے لیے دوآپشنزہیں۔پہلے کی بنیاد تعاون اور دوسرے کی بنیاد محاذآرائی پرہے''۔ منوچہرمتکی کا کہنا تھا کہ ایران یورینیم کوبیس فی صد تک افزودہ کرنے کے لیے اپنے پروگرام سے دستبردارہونے کو تیار نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ''اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد محاذآرائی پرمبنی ہے۔یہ ہماراترجیحی آپشن نہیں لیکن اس کا انحصار دوسرے فریقوں پرہے جو اس جانب آگے بڑھنا چاہتے ہیں''۔

روس نے امریکی فوج پر افغانستان میں منشیات کی پیداوار کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے۔


روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں پوست کے کھیت تلف کرنے سے امریکی کمان کا انکار انتہائی شرم کی بات ہے اور یہ ثبوت بھی کہ امریکی فوج بالواسطہ طور پر سہی لیکن منشیات کی پیداوار کی سرپرستی کر رہی ہے- اطلاعات کے مطابق صوبہ ہلمند کے ضلع مرجہ میں فوجی آپریشن کے اختتام کے بعد امریکی کمان نے افواج کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں پوست کے کھیت تلف کئے جانے کا حکم دینے سے اس بہانے انکار کر دیا تھا کہ اس سے افغان کسان روزی کمانے کے ذرائع سے محروم ہو جائیں گے- روسی وزارت خارجہ کے اعلان نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے مسئلہ افغانستان سے متعلق کئے جانے والے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے- روسی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق افغان کسانوں کی فکر کی آڑ میں منشیات کی پیداوار کرنے والوں کی براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ طور پر حمایت ضرور کی جا رہی ہے- وزارت خارجہ کو توقع ہے کہ روس امریکہ تعاون میں آنے والی بہتری کے مد نظر مستقبل میں اس طرح کے حیران کن واقعات پیش نہیں آئیں گے

سابق امریکی صدر بش کا خالد پر بدترین تشدد کا دفاع


مشی گن: سابق امریکی صدر بش نے نائن الیون دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد پر تفتیش کے دوران واٹر بورڈنگ سمیت بدترین تشدد کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ القاعدہ دشتگردوں پر دوبارہ واٹر بورڈنگ کریں گے۔ریاست مشی گن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کوہٹانا ضروری تھا۔ واٹر بورڈنگ کا دفاع کرتے ہوئے سابق امریکی صدر بش کا کہنا تھا کہ انسانی جانے بچانے کیلئے واٹر بورڈنگ لازمی تھا۔واٹر بورڈنگ تشدد کا ایک طریقہ ہے۔ جس میں ملزمان کو پانی میں ڈبو کر اعترافی بیان لئے جاتے ہیں۔

چهارشنبه، خرداد ۱۲، ۱۳۸۹

بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان،کراچی میں شدیدبارشوں کا امکان


کراچی : بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان کراچی سے ایک ہزار کلومیٹر دورہے یہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بارشوں کا باعث بنے گا ۔حکومت نے ماہی گیروں اور ساحلی علاقوں میں لوگوں کو طوفان سے خطرے کی وارننگ جاری کردی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ بحیرہ عرب میں بننے والے طوفان سے کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب طوفانی بارشوں کا امکان ہے .اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں چیف میٹرولوجسٹ محمد حنیف نے کہا کہ اس وقت طوفان کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان سے سمندری لہریں چار سے چھ فٹ بلند ہوسکتی ہیں۔ اس لئے ماہی گیر کھلے سمندر میں جانے سے گریز کریں۔ ۔محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان اور تیز بارشوں کی اطلاع کے بعد ساحلی علاقوں میں حفاظتی اور احتیاطی اقدام کیلئے ضلع انتظامیہ پاکستان فشر فوک فورم اور دیگر سماجی تنظیموں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ نے کہاہے کہ ماہی گیروں کی ڈیڑھ سو سے دو سو لانچیں کھلے سمندر میں موجود ہیں۔ ان میں سے چالیس لانچوں سے رابطہ نہیں ہورہا۔ ٹھٹھہ کی سمندر میں پھنسے ماہی گیروں کو نکالنے کیلئے پاکستان نیوی سے مدد حاصل کرلی ہے ۔ضلع بھر کے اسپتالوں صحت کے مراکز میں ایمرجنسی نافذ کر کے تمام ڈاکٹرز اور ملازمین کو حاضر رہنے اور ادویات کی دستیابی کو ممکن بنادیا گیا ہے۔اوراسکولوں میں کیمپ قائم کرنے کی ہدایات ہیں۔ انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ طوفان کی صورت میں سب سے زیادہ خطرہ بڑے سیم نالے ایل بی او ڈی کے گردونواح کی آبادیوں کو ہوسکتاہے ۔

امن جرگے کے دوران راکٹ حملہ اور فائرنگ


پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بدھ کو افغان دارالحکومت کابل میں امن جرگے کے مقام سے کچھ ہی فاصلے پر دو راکٹ آکر گرے جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم اس میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
اس امن جرگے میں ملک بھر سے تقریباً 1600مندوبین شریک ہیں جن سے صدر حامد کرزئی کے افتتاحی خطاب کے دوران پہلا دھماکا سنائی دیا۔ صدر کرزئی نے شرکاء کو اطمینان سے تشریف رکھنے کا کہتے ہوئے کہا کہ ایسی آوازوں کے وہ عادی ہوچکے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق بعد ازاں افغان صدر اپنے مسلح قافلے کے ساتھ جرگے سے روانہ ہوگئے۔
امن جرگے کے پرامن انعقاد کے لیے کابل میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور راکٹ گرنے کے بعد ہیلی کاپٹروں نے بھی فضا میں پروازیں شروع کردیں۔ جرگے کا مقصداس بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہے کہ شدت پسندی کو کس طرح ختم کیا جائے اور مصالحت کی جانب کس طرح پیش رفت کی جائے۔
طالبان نے اس جرگے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ افغان حکومت بے اختیار ہے اور وہ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے تاوقتیکہ تمام غیر ملکی فوجی افغانستان سے نکل نہ جائیں۔
ایک چھوٹے عسکریت پسند گروپ حزب اسلامی نے جرگے کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں صرف حکومت کے منتخب کردہ لوگ ہی شرکت کررہے ہیں۔لیکن سخت گیر مئوقف رکھنے والے شدت پسند کمانڈروں کو اس میں دعوت نہیں دی گئی۔
افغان صدراتی انتخاب میں صدر کرزئی کے اہم حریف عبداللہ عبداللہ نے یہ کہہ کر جرگے میں شرکت سے انکار کردیا ہے کہ اس میں عام افغان شہری کے مسائل زیر بحث نہیں لائے جارہے۔
تین روزہ جرگے میں سیاستدان،قبائلی عمائدین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔
توقع ہے کہ جرگے میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ طالبان کے سلسلے میں کرزئی حکومت کو کس سے بات کرنی چاہیے اور یہ کہ مذاکرات کہاں ہونے چاہئیں اور افغان حکومت کی جانب سے بات چیت میں کسے قیادت کرنی چاہیے۔

ایران کیخلاف پابندیوں کے سوا کوئی راستہ نہیں، فرانس


پیرس : فرانس نے کہا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے تعاون کی بار بار پیشکشیں مسترد کرنے کے بعد ایران کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان برنارڈ ولیرو نے اخبار نویسوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چھ عالمی طاقتوں نے ایران کو بار بار متنازعہ ایٹمی پروگرام پر مذاکرات اور تعاون کی پیشکش کی مگر انہیں ہر بار حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا گیا، اب عالمی برادری کے پاس تہران کیخلاف پابندیوں کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ فرانسیسی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران کی جانب سے تعاون انتہائی مایوس کن ہے اور اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔

ایران کے پاس2ایٹمی ہتھیاروں کاایندھن موجود ہے، اقوام متحدہ


اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس 2 ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کیلئے جوہری ایندھن موجود ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف پابندیوں کی قرارداد سے قبل اپنی آخری رپورٹ میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کاروں نے کہا ہے کہ ایران نے اتنی مقدار میں جوہری ایندھن کا ذخیرہ کر لیا ہے جس سے 2 ایٹمی ہتھیار بنانے جاسکیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات پر کام کو وسعت دیدی ہے۔ دوسری جانب وائیٹ ہاؤس کے ترجمان مائیکل ہیمر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ سے صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ ایران بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون سے مسلسل ناکام ہوا ہے جس سے ایران پر اقوام متحدہ کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کرنے کے امکانات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

روس کی سب سے بڑی مسجد۔


اس وقت نہ صرف روس بلکہ پورے یورپ کی سب سے بڑی مسجد روسی رپبلک چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی کی وہ مسجد ہے جسے "قلب چیچنیا" کہا جاتا ہے- یہ مسجد چیچن رپبلک کے پہلے صدر احمد قادیروو مرحوم سے منسوب ہے- اس مسجد میں دس ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہيں اور عبادت کے لیے مختص حصے کا رقبہ پانچ ہزار مربہ میٹر ہے- 2008 اکتوبر کے وسط میں اس مسجد کا افتتاح ہوا تھا جو استنبول کی مسجد سلیمان سے مشابہ ہے- 1980 کی دہائ میں چیچنیا کے سابق صدر احمد قادیروو نے استنبول کی اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم کے حصول کے دوران جب مسجد سلیمان دیکھی تھی تو انہوں نے عہد کیا تھا کہ چیچن سرزمین پر بھی ایسی ہی مسجد تعمیر کی جاۓ گی- احمد قادیروو کے بیٹے رمضان نے جو اب چیچنیا کے صدر ہیں، ان کے اس خواب کو تعبیر بخشی- افتتاحی تقریب میں 28 ممالک کے نمائندوں بشمول مختلف عقائد کے درجنوں سربراہوں نے جن کا روس کے مختلف صوبوں سے تعلق تھا، شرکت کی تھی- گروزنی کی یہ مسجد فی الواقعی لاجواب ہے- اس کی بیرونی اور اندرونی دیواریں کمیاب سنگ مرمر سے مزین ہیں اور مسجد کے اندر کی تزئین بھی بے حد حسین ہے- مسجد میں کتبے ترکی کے معروف قلم کاروں نے تحریر کئے ہیں جن کے لیے قدرتی اور بناۓ گئے رنگ استعمال کئے گئے ہيں- ان میں خصوصی اجزاء شامل کئے گئے تھے جو قدرتی رنگوں کو کم سے کم پچاس برس تک برقرار رکھیں گے- قرآنی آیات لکھنے کے لیے اعلیٰ قسم کے سونے کا استعمال کیا گیا ہے- مسجد کی محراب 8 میٹر اونچی اور 4،6 میٹر چوڑی ہے جسے سفید سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا ہے- کعبے کے رخ پہ بنی یہ محراب انتہائ وسیع ہونے کا تصور دیتی ہے- مسجد میں جا بحا کتبے لکھے گئے ہیں جن پر بھی قرآنی آیات کندہ ہیں- بڑے گنبد میں اندر کی جانب قرآن کی ایک سورت اور اس کے گرد اگرد اللہ تعالیٰ کے 99 اسماۓ حسنیٰ تحریر ہیں- مسجد کے اندر کی حسین ترین چیز وہ 36 فانوس ہیں جو اعلیٰ ترین کرسٹل سے بناۓ گئے ہیں- فانوس دنیا کی معروف مساجد کی شبیہ اور چیچن طرز تزئین کے مطابق بناۓ گئے ہیں جسے صناعوں نے خاصی طور پر چنا- مثال کے طور پر بڑے گنبد کے ساتھ معلق 8 میٹر کا سب سے بڑا فانوس کعبتہ اللہ کی شبیہ ہے اور دو دوسرے یروشلم کی سب سے بڑی مسجد اور مسجد نبوی سے مشابہ ہیں- مسجد کے میناروں کی اونچائ 62 میٹر ہے- مسجد کا کل رقبہ 35 ایکڑ ہے جس میں مسلمانوں کی روحانی کونسل کے دفاتر، اسلامی یونیورسٹی، لائبریری اور مہمان خانہ بھی واقع ہیں- یہ سب مل کر چیچنیا کا اسلامی مرکز ترتیب دیتے ہيں جس میں فوارے، روشیں اور کیاریاں ہيں- یہ سارا خوشنما خطہ چیچن دارلحکومت کے عین وسط میں واقع ہے-

افغانستان میں جرگہ۔


دو جون کو کابل میں جرگہ شروع ہو رہا ہے جو تین دن جاری رہے گا۔ شرکاء صدر افغانستان حامد کرزئی کی ان تجاویز پر غور کریں گے جن کا مقصد تیس سال سے جاری رہنے والی جنگی کارروائیاں بند کر کے ملک کے حالات کو معمول پر لانا ہے- حامد کرزئی نے بالخصوص یہ تجویز پیش کی ہے کہ اعتدال پسند طالبان اور حزب اختلاف کی دیگر قوتوں کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، طالبان پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹائی جائیں اور انہیں دیگر ممالک میں پناہ فراہم کی جائے تاکہ وہ کابل کے حکام سے مکالمہ کر سکیں۔ منصوبہ ہے کہ جرگہ کے دوران مرتبہ سفارشات جولائی کے آخر میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران برائے غور پیش کی جائیں گی۔
جرگہ سے پہلے حفاظتی انتظامات سخت تر کر دیے گئے- پولیس نے کابل یونیورسٹی جانے والے راستے بند کر دئے اور نزدیکی عمارات کی تلاشی لے لی- کابل یونیورسٹی کی حدود میں ایک ٹیلے پر ایک بڑا سائبان نصب کیا جائے گا جہاں ڈیڑھ سو شرکاء سما سکیں گے- قبائیلی داناؤں کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ، علمائے دین، مختلف علاقوں اور سماجی طبقوں کے نمائندے جرگہ میں حصہ لیں گے- بیس فی صد شرکاء خواتین ہوں گی- طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا لیکن اگر وہ شرکت کی خواہش ظاہر کریں گے تو انہیں یہ موقع فراہم کیا جائے گا- بہر حال جرگہ کے شرکاء کا ایک حصہ طالبان کے موقف کا ہی اظہار کرے گا- اس سلسلے میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل کا نام قابل ذکر ہے جنہوں نے عرصہ پہلے کابل انتظامیہ کا ساتھ دینا شروع کر دیا تھا۔
اس سے پہلے جرگہ مئی کے شروع میں بلائے جانے کا منصوبہ تھا لیکن اسے دو بار ملتوی کیا جانا پڑا- مبصرین کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ حکام کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے- یوں لگتا ہے جسے وہ نہیں سمجھ پائے کہ طالبان سے رابطہ قائم کرنے کے بعد کونسی حمکت عملی اپنانی ہوگی- تاہم روسی سائنسی اکادمی کے تحت علم شرقیات کے انسٹی ٹیوٹ کے اہلکار Boris Dolgov نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ معقول ہے۔
موصوف نے کہا: طالبان کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جانا بلا شبھہ افغانستان میں استحکام کی ایک لازمی شرط ہے- طالبان کے بغیر ملک کے حالات کو معمول پر لایا جانا انتہائی مشکل ہوگا- یاد رہے کہ طالبان کو افغان آبادی کے بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے۔
تاہم ایک اور اہم بات یاد رکھی جانی چاہئے- مسئلہ افغانستان محض قومی نوعیت نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے- بورس دولگوو کے مطابق پاکستان کو جرگہ میں اہم مقام فراہم کیا جانا چاہئے تھا۔
پاکستان کو افغانستان میں قیام امن کے عمل میں شامل کیا جانا بہت ضروری ہے- پاکستان نے تحریک طالبان کی تشکیل میں حصہ لیا تھا اور اب وہ استحکام پیدا کئے جانے میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہے- پاکستان کی مدد کے بغیر اس سلسلے میں نمایاں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔
امریکی انتظامیہ جرگہ بلائے جانے کے بارے میں متضاد رویہ رکھتی ہے- یک طرف امریکی حکام پر واضح ہے کہ جرگہ نتیجہ خیز ثابت ہونے کی صورت میں افغان عوام کے رہمنا کی حیثیت سے حامد کرزئی کی ساکھ میں اضافہ ہوگا- امریکہ اس لیے ناخوش ہے کہ اس وقت حامد کرزئی کا وقار زیادہ بلند نہیں ہے- وہ بڑی مشکل سے صدارتی انتخابات جیت سکے تھے اور اب تک موثر حکومت تشکیل دینے سے قاصر ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کابل حکام سے اپیل کرتا چلا آ رہا ہے کہ طالبان کو بڑی مراعات تب تک فراہم نہ کی جائیں جب تک انہیں جنگ میں شدید ناکامی کا سامنا نہ ہو۔
دریں اثنا حال ہی میں طالبان اور گلبدین حکمتیار کے نمائندوں نے مالدیپ جزائر میں ہونے والی خفیہ ملاقات کے دوران اس پر اتفاق کرنے کی کوشش کی تھی کہ حامد کرزئی کو کیا جواب دیا جائے- اس ملاقات کے نتائج کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ظاہر ہے کہ حزب اختلاف کی کچھ قوتیں صدر افغانستان کا منصوبہ منظور کرنے کے لیے تیار ہیں ورنہ جرگہ بے معنی ہوتا- لیکن اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ جرگہ کے عملی نتائج برآمد کیسے ہوں گے یا نہیں- محض جرگا بلائے جانے سے حقیقی مسائل حل نہیں ہوں گے لیکن اس سے اس عمل میں مدد مل سکتی ہے۔

خطیب اہل سنت زابل 7کروڑ کی ضمانت پررہا ہوگئے


صوبہ سیستان وبلوچستان کے دوسرے بڑے شہر زابل کے خطیب مولانا حافظ عبدالرشید چھ روز تک قید میں رہنے کے بعدضمانت پر رہا ہوگئے۔
گزشتہ ہفتے کے منگل کو "خصوصی عدالت برائے علماء" میں پیشی کے بعد روانہ زنداں کردیے گئے تھے۔ بالاخر سات کروڑتومان کی ضمانت پررہا ہوگئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق مسمارشدہ دارالعلوم امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کی تخریب کے بعد ایک تقریر کی وجہ سے آپ کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیاگیاتھا۔

مولوی عبدالمجیداسماعیل زہی کی دوبارہ عدالت طلبی


دارالعلوم زاہدان کے مدرس مولوی عبدالمجید اسماعیل زہی تیسری مرتبہ کے لیے مشہد کی عدالت برائے علماء میں پیشی کیلیے مشہد پہنچ گئے۔
گزشتہ دنوں موصوف کو اپنے ذاتی بلاگ میں تحریر کیے گیے بعض مضامین کی وجہ سے مشہد کی "خاص عدالت برائے علماء" میں پیشی کیلیے نوٹس جاری کیاگیا۔ مولوی عبدالمجید "خاطرات ابوعمار" کے عنوان سے ایک ذاتی بلاگ میں لکھتے ہیں۔آٓج آپ کی تیسری پیشی ہے۔

سانحہ عظیم آبادزابل کے قیدیوں کو دس دن کی رخصت


تقریبا دو برس قبل صوبہ سیستان وبلوچستان کے شمالی علاقہ عظیم آباد زابل کے دینی مدرسہ دارالعلوم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تخریب کے بعد گرفتارہونے والے نوجوانوں میں سے پانچ افراد کو دس دن کی رخصت دی گئی ہے۔
یادرہے دارالعلوم امام ابوحنیفہ کے مسمار ہونے کے بعد اہل سنت والجماعت کے متعدد علمائے کرام اور نوجوان خفیہ اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے تھے۔کچھ عرصے کے بعد ان میں چھ افراد کو دو سالوں سے لیکر پانچ سالوں تک کی قید کی سزا سنائی گئی۔سزا یافتہ نوجوانوں میں سے ایک فرد کی رہائی کچھ عرصے پہلے عمل میں آئی۔ امید ظاہر کی جارہی ہے رہائی کا پروانہ باقی پانچ افراد کے لیے بھی صادرہوجائے اور زاہدان کے یہ نیک علمائے کرام اور نوجوانوں کو مکمل رہائی نصیب ہوجائے۔

سه‌شنبه، خرداد ۱۱، ۱۳۸۹

ترکی :فوجیوں پرراکٹ حملے میں 6 فوجی ہلاک 7زخمی


انقرہ : ترکی میں کرد باغیوں کے ترک فوجیوں پرراکٹ حملے میں 6 فوجی ہلاک جبکہ 7 زخمی ہوگئے ۔ پیر کو ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق کرد باغیوں نے ترکی کے جنوبی علاقہ اسکندرن میں بحری اڈے میں فوجیوں کو لے جانے والے گاڑی پرراکٹ فائر کیا جس کے نتیجہ میں 6 فوجی ہلاک جبکہ 7 زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں کو فوری طورپر ہسپتال منتقل کردیاگیا۔ واضح رہے کہ کرد 1984ء سے جنوب مشرقی علاقہ میں خودمختاری کیلئے ترک حکومت کے خلاف برسرپیکار ہے

دوشنبه، خرداد ۱۰، ۱۳۸۹

مقابلہ تقریر و مقالہ نویسی کا اختتام


بارہویں تقریب تقریر ومقالہ نویسی، شعر ومشاعرہ اور نظم خوانی (فارسی، عربی، بلوچی، اور انگریزی زبانوں میں) بمقام دارالعلوم زاهدان منگل 25 مئی سے شروع ہوکر جمعرات 27 مئی کی شام تک جاری رہی۔
یہ مقابلہ صوبہ سیستان وبلوچستان کے دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان منعقد ہوا۔ اس تقریب کے علاوہ زاہدان شہر کی سطح پر متعدد مدرسۃ البنات سے تعلق رکھنی والی طالبات نے بھی تقریب مقابلہ منعقد کرایا۔ تقریر ومقالہ نویسی میں مقابلے فارسی، عربی اور بلوچی زبانوں میں منعقد ہوئے۔تقریب کے افتتاحی پروگرام میں سرپرست دارالافتاء دارالعلوم زاہدان، مولانا مفتی محمد قاسم قاسمی نے خطاب کیا۔ مدیر "ندائے اسلام" اور استاذ حدیث دارالعلوم کے فکر انگیز خطاب کا خلاصہ ملاحظہ ہو:کس قدر افسوسناک بات ہے کہ آج کل دنیا میں کوئی ہماری نہیں سنتی۔ مثلاً چند دن پہلے انٹرنیٹ پر دنیا کا موجودہ اور مستقبل کا نقشہ شائع ہواتھا۔ میں نے سوچا ہم مسلمان نقشوں اور سرحدوں کی تعیین میں کس قدر موثر ہیں؟ بہت سارے ممالک بظاہر سامراج کے قبضہ سے آزاد ہوئے مگر فکری ونظریاتی طور پر ابھی تک مغرب کے فلسفے ونظریات کے غلام ہیں۔در حقیقت عالم اسلام ذہنی غلامی کا شکار ہوچکاہے اس لیے مسلمانوں کو غلامانہ ذہنیت سے نجات دلانے کے لیے سوچنے اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہ کام علمائے کرام اور داعیان دین کا ہے۔ فتنہ تاتار ومغل کامقابلہ علمائے کرام، عرفاء اور داعیان دین ہی نے کیا۔ چنانچہ مغل اور تاتاریوں کے حملے کے بعد دنیا کے قانون کے برعکس فاتح اور حملہ آور مفتوح سے متاثر ہوا اور علمائے اسلام حملہ آور مغلوں پر غالب آئے۔ علماء کی کامیابی کا راز اخلاص و احتساب میں ہے۔محترم طلبہ! یہ ساری کاوشیں، درس وتدریس، تقاریر وتحریر کے مقابلے وغیرہ سب اس لیے ہیں کہ ہم علم وحکمت سیکھنے کے بعد معاشرے کے فرد فرد تک دین کا پیغام پہنچائیں۔مقابلے میں حصہ لینے والے طلبہ کو مخاطب قرار دیتے ہوئے آخر میں مفتی صاحب نے مجدد الف ثانی امام احمد سرہندی رحمہ اللہ سے نقل قول کیا: "حقیقی انقلاب صرف دھواں دار اور پر جوش تقریروں اور کثرت معلومات سے حاصل نہیں ہوتاہے مگر یہ کہ تقریر کے ساتھ چار چیزیں ہوں: 1۔ اصلاح شدہ نفس؛ 2۔ اخلاص سے مالامال دل؛ 3۔ مسلمانوں کی حالت زار کا احساس ہونا؛ 4۔ اسلام کی اجنبیت ومظلومیت کا احساس ودرد۔مفتی محمد قاسم قاسمی نے مزید کہا مجدد الف ثانی نے ان چار خصوصیات کے حصول کا نسخہ بھی بیان فرمایا ہے: پہلا نسخہ: کثرت ذکر وعبادت « فاذا فرغت فانصب»؛ دوسرا نسخہ: صلحاء کی صحبت ومجالست اور تیسرا نسخہ سلف کے اچھے طریقوں کی اتباع اور ان کے نقش قدم پر چلنا۔اختتامی نشست میں حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کا خطابصوبے کے بین المدارس تقریب مقابلے کی آخری نشست شب جمعہ کو مغرب کی نماز کے بعد تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوئی۔ تلاوت کے بعد ،،محبان رسول،، نامی نظم گروپ نے بلوچی زبان میں نعت رسول پیش کی۔ نعت نبوی کے بعد حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے خطاب کا آغاز کیا۔مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے خطبہ مسنونہ اور قرآنی آیت «فلولا نفر من کل فرقۃ۔۔۔ » کی تلاوت کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے: جس زمانے میں ہم رہتے ہیں اس کے اپنے تقاضے اور خصوصیات ہیں، دعوت وتعلیم کا کام بھی زمانے کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ دنیا نے ذرائع کے اعتبار سے بہت ترقی کی ہے، انٹرنیٹ کے ذریعہ لمحوں میں اپنی بات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ جس طرح عیسائیت ویہودیت سمیت دیگر مذاہب کی تبلیغ اس ذریعے سے ہوتی ہے اس طرح اگر ہم مسلمان اپنی بات دوسروں کو پہنچانا چاہتے ہیں اور اس محاذ پر اسلام کا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس نوزائیدہ ذریعہ ابلاغ کا استعمال کرنا ہوگا۔ انٹرنیٹ کے بہتر استعمال کے لیے دنیا کی اہم زبانوں پر مہارت و دسترسی حاصل کرنی پڑے گی۔ اسلام اور دین کے حوالے سے صحیح معلومات رکھنے والا شخص بآسانی اسلام کا تعارف پیش کرکے شبہات کا جواب دے سکتا ہے۔ چند لمحوں میں اس کی بات پوری دنیا کے سامنے آتی ہے۔شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا ایک کامیاب اور مفید تقریر وہ ہے جو تعصب اور جذباتیت سے پاک ہو اور استدلال، منطق اور حقیقت پسندی کے زیور سے آراستہ ہو۔ جو شخص اچھا اور کامیاب مقرر بننا چاہتا ہے تو اْسے متعلقہ زبان پر مکمل دسترسی حاصل کرنے کے علاوہ، دیگر نظریات وخیالات کو مدنظر رکھ کر اپنا نقطہ نظر مستدل انداز میں پیش کرنا چاہیے۔شعر وشاعری کی اہمیت واضح کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا شیخ سعدی، مولوی، اقبال لاہوری و۔۔۔ وہ مسلمان شعراء ہیں جنہوں نے شاعری کے ذریعے اسلام کی خدمت کی۔اس لیے کہ ان عظیم شاعروں نے شعر گوئی کا صحیح راستہ اختیار کیا تھا۔ لیکن قرآن کریم نے ان شاعروں کی مذمت کی ہے جو نامناسب، عشقی اور شہوانی اشعار سے اپنی خباثت ظاہر کرتے ہیں۔دینی مدارس کی طالبات کی بڑی تعداد حضرت شیخ الاسلام کی تقریر سن رہی تھیں، طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پوری تاریخ میں بے شمار مائیں معاشرے کو دیندار اور لائق افراد مہیا کر گئیں۔ خواتین ہمیشہ مردوں کے حامی وپشتیبان رہی ہیں۔ آج بھی بعض ملکوں میں خواتین اہم مناصب پر فائز ہیں، اس لیے مسلمان خواتین کو چاہیے زندگی کے مختلف میدانوں اور شعبوں میں فعال کردار اداء کرکے اسلام اور انسانی معاشرے کی خدمت کا عزم کریں۔مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ نے مزید کہا یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، اگر ہم زمانے کے تقاضوں کو نظر انداز کریں تو کوئی ہماری بات پر کان نہیں دھرے گا اور ہم دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔انہوں نے فارسی وعربی زبانوں کے علاوہ انگریزی اور روسی زبانوں پر دسترسی حاصل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے حاضرین کو یہ زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی۔بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا وہ زمانہ گزر گیا جب دنیا کمیونیزم اور سرمایہ دارانہ نظام کے دو بلاکوں میں تقسیم تھی، آج پوری دنیا اس بات پر متحد ہوچکی ہے کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹا کر مسلمانوں کو منحرف کیا جائے۔ عراق وافغانستان پر چڑھائی اور اسلامی ملکوں میں دخل اندازی کا مقصد بھی یہی ہے۔ ہمارے دشمنوں کی کوشش یہ ہے کہ اسلام کا اصل چہرہ مسخ کرکے لوگوں کو اسلام کے بارے میں بد ظن کیا جائے۔ جہاد اور اسلامی تعلیمات کا معنی ومفہوم تبدیل کیا جائے چنانچہ بعض شیعہ اور سنی دانشور اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب سارے اسلامی ممالک متحد تھے اور ایک فرد سرزمین کی سربراہی کرتا تھا لیکن سامراجیوں نے اختلاف وخانہ جنگی کے بیج بو کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیا۔سرپرست دارالعلوم زاہدان نے علماء وطلباء کو نصیحت کی کہ عالم اسلام کی بحرانی صورتحال سے خود کو لا تعلق نہ رکھیں، تعلیم وتبلیغ اور غیر مسلموں کی جانب سے پھیلائے جانے والے شبہات کے ازالے کے حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔بات آگے بڑھا کر مولانا عبدالحمید نے دینی مدارس کے بعض نصابی کتابوں پر تنقید کی جو علم کلام کے بارے میں ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں زمانہ ماضی کے تقاضوں کا مقلد نہیں ہونا چاہیے۔ جو قوانین صدیوں پرانے اور اْس زمانے کے مطابق ہیں ہمارے لیے غیر مفید ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے فقہی مسائل سے بالاتر ہوکر اب اسلام پر ہونے والے حملوں اور پھیلائے گئے شبہات کا ازالہ کرنا چاہیے۔آخر میں حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے طلبہ وطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا سب کو ہر قسم کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلیے تیار رہنا چاہیے۔ دینی مدارس کی چھٹیاں قریب آچکی ہیں اس لیے طلبہ کرام مختلف فنون وعلوم میں مہارت حاصل کرنے اور معاشرے کے ہر طبقہ تک دین کا پیغام پہنچانے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کریں۔ آج کل جماعتیں او مختلف تنظیمیں منصوبہ بندی اور جدید ذرائع و آلات کے استعمال سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں بھی جدید آلات اگر چہ محدود ہوں سے لیس ہوکر کام کرنا چاہیے۔ کم ذرائع سے زیادہ سے زیادہ کام لیکر مقصد کی طرف بڑھنا چاہیے۔مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم کے حکیمانہ و پدرانہ خطاب کے بعد مختلف زبانوں میں تقریر، شعر و مقالہ نویسی میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دیے گئے۔مقابلوں کی یہ تقریب "شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان" کی جانب سے منعقد ہوئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ "انتشارات صدیقی" کی طرف سے منعقد ہونے والا کتب میلہ شرکائے تقریب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

کابل کی پلُ چرخی جیل


کابل کی پلُ چرخی جیل ایک عرصے تک ظلم اور ناانصافیوں کے بارے میں بدنام تھی۔
سابق سویت یونین کے دور میں پراسرار گمشدگیوں اور پھانیسوں کے بارے میں بدنام زمانہ اس جیل میں گزشتہ تیس دہائیوں سے افغان حکومت کے دشمن یا خطرناک مجرموں کو رکھا جاتا ہے۔
افغان تاریخ کے اس پرآشوب دور میں اس قید خانے کی موٹی موٹی دیواروں کے پیچھے سزا یافتہ قاتلوں اور منشیات کے سمگلروں کے ساتھ طالبان بھی ایک بڑی تعداد میں قید ہیں۔
افغانستان کی اس سب سے بڑی جیل میں جہاں ملک میں قیدیوں کی ایک تہائی تعداد قید ہے، ہمیں جانے کا موقع فراہم کیا گیا۔
اکثر طالبان قیدیوں کو جیل کے انتہائی سکیورٹی والے حصہ میں رکھا جاتا ہے جو قیدخانے کی بلائی منزل پر قائم ہے اور یہ حصہ ’دی زون‘ کے نام سے مشہور ہے۔
ہمیں اس حصہ میں جانے کا موقع بھی ملا جس میں صرف القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے قیدی پابندِ سلاسل ہیں۔
اس حصے میں جانے کے لیے جب ہم سیڑھیاں چھڑ رہے تھے تو ہماری رہنمائی کرنے والے محافظ ہمیں مستقل خبردار کرتے رہے کہ یہ قیدی خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
جیل کے طویل برآمدے سے صرف تلاوت اور چولہے پر چھڑی چائے کی کیتلیوں میں ابلتے ہوئے پانی کی ملی جلی آوازیں گونج رہی تھیں۔
اس جیل میں آٹھ فٹ چوڑی اور آٹھ فٹ لمبی کوٹھریوں میں کہیں دو اور کہیں تین قیدی بند تھے۔
جیل میں طالبان بھی موجود ہیں
بہت سے قیدی ان کوٹھریوں میں آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے اور تقریباً سب کے ہاتھوں میں تسبیاں تھیں۔ ایک قیدی جس نے مجھے بتایا کہ انھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے سفید اور سرخ دانوں کی ایک تسبیی پھیر رہے تھے جس کے دانوں پر مسلمانوں کی سب سے مقدس جگہ خانہ کعبہ کا عکس تھا۔
اس حصے میں بہت کم ملاقاتیوں کو آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس لیے بہت سے قیدی بات کرنے کے مشتاق تھے۔بہت سے قیدیوں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اس وقت تک جنگ بند نہیں ہو سکتی جب تک یہاں غیر ملکی فوجی موجود ہیں۔
بشیر احمد قنات بھی ان ہی قیدیوں میں شامل تھے تاہم وہ زیادہ شدت پسند خیالات کے حامل تھے۔ کالی اور سفید پگڑی پہنے ہوئے بشیر احمد قنات نے ہمیں اپنی کوٹھری میں آنے کو کہا۔
انھوں نے کہا کہ کوئی مسلمان اور کوئی افغان اپنی سرزمین پر عیسائیوں اور یہودیوں کی موجودگی برداشت نہیں کرے گا۔ حامد کرزئی کو بھی اب ان سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
میں نے اس سے طالبان سے مذاکرات کی نئی حکمت عملی پر بات کی۔ ’ہم افغان بھائی بھائی ہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ افغان آئین کے تحت ملک میں شریعت نافذ کی جانی ہے۔قید میں بھی طالبان اپنے مقصد کے بارے میں بہت واضح ہیں۔
جنرل عبدل بہزودی اور جیل کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے دفتر میں وہ الماری دکھائی جو موبائل فون، خنجر اور مختلف قسم کے آلات سے بھری ہوئی تھی۔جنرل عبدل بہزودی نے کہا کہ ان موبائل فون کے ذریعے طالبان دنیا بھر میں کالیں کرتے تھے جن میں پاکستان کا شہر کوئٹہ بھی شامل تھا جہاں سے طالبان قیادت خود کش حملوں کی ہدایت دیتی ہیں۔
اب جیل میں سکیورٹی غیر معمولی حد تک بڑھا دی گئی ہے۔ ہر ملاقاتی کو جیل میں داخل ہونے سے قبل پانچ مرتبہ تلاشی لی جاتی ہے۔
ہم نے گارڈز کو قید خانے میں داخل ہونے والے ملاقاتیوں کی تلاشی لیتے ہوئے دیکھا۔ گارڈز کھانے کے ڈبووں اور ملاقاتیوں کے جوتوں کی ایڑیوں کو بھی دیکھ رہے تھے کہ کہیں کوئی موبائل فون یا ان کی سمیں یا نوٹ چھپا کر نہ لے جا رہے ہوں۔
گزشتہ نومبر میں اس قید خانے میں ہنگامے میں کئی قیدی ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ان ہنگاموں میں سات قیدی ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم طالبان ہلاک ہونے والی کی تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔
جیل میں مدرسہ بھی موجود ہے
قیدیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔جیل حکام کا کہنا تھا کہ طالبان اور دوسرے قیدیوں کو کہیں زیادہ آزادی حاصل ہے۔
جیل کی سب سے اوپر والی منزل میں ہماری ملاقات طالبان کمانڈر صلاح الدین سے ہوئے جسے دوسرے قیدی اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں۔
انتہائی پراعتماد یہ شخص میدان جنگ میں اپنے کارناموں کی کہانیاں سنانے لگا۔وہ ان کی تفصیلات میں جائے بغیر یہ کارنامے گنوانے لگا۔ گارڈز کی موجودگی کی اسے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ معاملات اب بھی اس کے ہاتھ میں ہیں۔
گارڈز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا کہ یہ ہمیں جیل میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں، لیکن اندر ہمیں کس طرح رہنا ہے یہ وہ خود طے کرتے ہیں۔قیدی افغان ججوں کی بدعنوانی کی شکایت کرتے ہیں۔
جیل کے سربراہ بہزودی نے بتایا کہ زون ڈی میں طالبان نے اپنی عدالت بھی بنا رکھی اور وہاں پر انھوں نے اسلامی امارات پاکستان کا نشان بھی لگا رکھا ہے۔
غروب آفتاب کے بعد وہ جیل کے برآمدے میں جماعت کرواتے ہیں۔جیل میں قیدیوں کی مذہبی درس و تدریس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ طالبان اپنے بلاک میں خود تدریسی جماعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ صلاح الدین نے ہمیں ان جماعتوں میں آنے کو کہا۔
بہت سے قیدی اس سے قبل کابل کے شمال میں واقع بگرام کے امریکی اڈے پر قائم جیل میں بھی رہ چکے تھے۔ انھوں نے وہاں جسمانی تشدد کی شکایت کی۔ البتہ پل چرخی جیل میں انھیں کوئی شکایت نہیں تھی۔
انھیں صرف یہ شکایت تھی کہ اکثر قیدیوں کو ان کی سزا کی مدت پورے ہونے کے باوجود رہا نہیں کیا جاتا۔
پل چرخی جیل میں اب قیدیوں کی اصلاح اور بحالی پر زور ہے۔ بیرونی امداد سے جیل کی عمارت میں توسیع کی جا رہی ہے تاکہ میں جیل میں زیادہ قیدیوں کی گنجائش پیدا کی جا سکے۔
جیل کی دیواروں اور واچ ٹاورز کے سائے سے پرے قیدیوں کو بہت سے مراعات حاصل ہیں جن میں جسمانی ورزش کی کلاسوں سمیت تفریحی کے اور بھی مواقع دیئے جاتے ہیں۔
بہت سے قیدی تیز دھوپ میں اپنی کمر پر لوشن لگا کر بیٹھے رہتے ہیں۔
طالبان سے مذاکرات کی حکمت عملی پر اگر عملدرآمد ہوا تو اس قید میں موجود بہت سے قیدیوں کو ایک دن رہائی نصیب ہو جائے گی۔