چهارشنبه، تیر ۳۰، ۱۳۸۹

جو شخص شیعہ کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے



مندرجہ ذیل دلیلوں کی بنا پر کافر ہیں:


- وہ قرآن پر طعنہ زنی کرتے ہیں

اور بدگوئی کرتے ہیں

اور تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں

اور کہتے ہیں کہ قرآن کا دو تہائی حصہ حذف ہوا ہے

اور جو شخص قرآن پر طعنہ زنی کرے وہ کافر ہے

اور آیت قرآن «و إنا لھ لحافظون» کا منکر ہے.

۲- سنت نبوی اور صحيح بخارى و مسلم کی حدیثوں پر بھی طعنہ زنی کرتے ہیں

اور ان دو کتابوں میں منقولہ احادیث پر عمل نہیں کرتے؛ کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے

کہ ان دوکتابوں کی حدیثیں صحابہ سے منقول ہیں

اور شیعوں کا خیال ہے کہ صحابہ کافر ہیں!

اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ (ص) کی رحلت کے بعد على اور فرزندان علی اور سلمان و عمار جیسے انگشت شمار صحابہ کے سوا باقی سب کافر اور مرتد ہوگئے تھے.


۳- شیعہ اہل سنت کو کافر سمجھتے ہیں اور سنیوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے

اور اگر سنی امام جماعت کی اقتدا میں نماز ادا کریں اس کا دوبارہ اعادہ کرتے ہیں؛

نہ صرف یہی بلکہ وہ اہل سنت کو نجس سمجھتے ہیں


اور اگر کسی سنی کے ساتھ مصافحہ کریں اور ہاتھ ملائیں تو اپنا ہاتھ دہولیتے ہیں.


۴- شیعہ، علی اور فرزندان علی کی نسبت غلوّ کا ارتکاب کرتے ہیں

اور انہیں ایسی صفات کے حامل سمجھتے ہیں

جو خدا کے لئے مخصوص ہیں اور خدا کی طرح ان کو بلاتے ہیں


جو شخص شیعہ کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے

SHIA DUNIYA KA BDTREEN KAFIR
ابوزرقاوی بلوچ

کابل ایئرپورٹ پرچارمیزائل داغےگئے


اطلاعات کےمطابق امارت اسلامی کےمجاہدین نےپیراورمنگل کی درمیانی شب مقامی وقت کےمطابق رات گیارہ بجےکابل ایئرپورٹ پردہ سبز کے علاقے سے چارمیزائل داغےجس فوراہی ہوائی اڈہ میں زورداردھماکہ ہوا،اورایئرپورٹ کی مغربی حصےکی بجلی کانظام درہم برہم ہوگیا۔



میزائل حملےسے کابل میں موجودغیرملکی مندوبین اورامریکی سفارتکاربہت گھبراگئےاورساتھ ہی امریکی سفارت نےخطرےکی گھنٹی(وارننگ الارم)بجادی اورمندوبین و سفارتکاروں کوحکم دیاگیا،کہ محفوظ مقامات تک پہنچنےکی کوشش کردیں۔


کابل ایئرپوررٹ پرایسےوقت میں میزائل حملہ کیاگیاجب چالیس ممالک کےوزراءخارجہ،اقوام متحدہ کےسیکٹری جنرل بانکی مون،امریکی ورزیرخارجہ ہیلری کلنٹن اور بیشترممالک کےسفارتکاروہاں موجودتھے۔


دوسری جانب منگل کی روز2010-07-20 چالیس ممالک کےوزراء خارجہ کابل کانفرنس کی انعقادمیں شرکت کی۔


طالبان نے وزراء خارجا کانفرنس ناکام قرار دیا اور کہا کہ یہ کانفرنس لندن کانفرنس کی طرح ناکام ہے

ایران :جنوبی علاقے میں زلزلہ ،15افراد زخمی


تہران : ایران کے جنوبی علاقے میں زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں متعدد مکانات منہدم ہوگئے،


ریکٹراسکیل پر زلزلے کی شدت پانچ اعشاریہ آٹھ ریکارڈ کی گئی ۔

ایرانی میڈیا کے مطابق زلزلہ اشکینان کے علاقے میں آیا ۔

مکانات منہدم ہونے سے پندرہ جہاں متعدد مکانات منہدم ہوگئے ۔

زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں ۔

ایرانی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق علاقے میں زلزلے کے بڑے جھٹکے کے بعد ہلکے جھٹکے بھی محسوس کئے گئے ۔

جن کی شدت پانچ اعشاریہ دو اور تین اعشاریہ ایک ریکارڈ کی گئی۔

اسپین:مسجدبند،امام بچوں کومارپپیٹ کے الزام میں گرفتار


اسپین میں حکام نے جزیرہ ابیزا میں مرکزی مسجدانیسہ کو بند کردیا ہے اور اس کے امام کو متعددمسلم طلبہ کی مارپیٹ کے الزام میں گرفتارکرلیا ہے۔


ہسپانوی زبان کےاخبار ڈیارودی ابیزا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسپینش سول گارڈ نے بحرمتوسطہ کے جزیرے ابیزا کے قصبے سینٹ انٹونی کی مرکزی مسجد کو بند کردیا ہے اور اس کے مراکشی نژاد امام خیریں کو گرفتار کرلیا ہے۔


ان پرمسجد سے ملحقہ اسکول آف عرب کلچرمیں زیرتعلیم بارہ طلبہ کو مارنے پیٹنے اوران سےنارواسلوک کا الزام عاید کیا گیا ہے۔


سینٹ انٹونی کی پولیس نے امام کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔

پولیس کوامام مسجد کے خلاف مسلمان والدین کی جانب سے مبینہ طورپرمتعددشکایات موصول ہوئی تھیں کہ وہ عرب ثقافت کے اسباق کی تعلیم کے دوران ان کے بچوں کوڈنڈوں سے سر،ہاتھوں اورپشت پرمارتے پیٹتے ہیں۔


تاہم دوسری جانب جزیرے میں رہنے والے مسلمانوں نے ہسپانوی حکام کے مسجد کو بند کرنے اور امام کی گرفتاری کے اقدام پرحیرت کا اظہار کیا ہے۔


البتہ انہوں نے اس حوالے سے پریس سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے

کیونکہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے انہیں پریس سے بات کرنے پر خبردارکیا تھا کہ وہ اسپین کے عقیدے اورشہری آزادیوں کے حوالے سے تشخص کوداغدارنہ کریں۔


جن مسلمانوں نے پریس سے بات کی ہے،انہوں نے مسجد کی بندش کے فیصلے کے خلاف مایوسی کا اظہارکیا ہے

کیونکہ وہ مسجد میں اپنے بچوں کو قرآن مجید اورعرب تاریخ وثقافت کی تعلیم دلانے کے لیے بھیج رہے تھے۔


اسلامی سرپوش اوڑھے مراکشی نژاد ایک خاتون انیسہ ان چند مسلمانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے پریس سے بات کی ہے۔


وہ اپنی چارسالہ بچی کو تعلیم کے لیے مسجد میں مذہب اور ثقافت کی تعلیم کے لیے بھیج رہ تھیں۔


ان کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی نماز کے لیے وہاں جاتی تھیں اوراسلام کے بارے میں مزید تعلیم حاصل کررہی تھیں


لیکن اب مسجد کی بندش کے بعد وہ ایسا نہیں کرسکیں گی۔

سه‌شنبه، تیر ۲۹، ۱۳۸۹

الظواہری کی عرب لیڈروں پر نکتہ چینی


القاعدہ کمان کے ایک اعلیٰ لیڈرنے کہا ہے کہ ایسے عرب لیڈر جو مشرقِ وسطیٰ میں امن لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل ‘صیہونی عرب’ ہیں۔


پیر کے روز اسلامی ویب سائٹوں کو ارسال کیے گئے ایک پیغام میں ایمن الظواہری نے کہا کہ ایسے عرب لیڈر، اُن کے الفاظ میں ‘یہودی صیہونیوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔


’ظواہری نےغزہ کی پٹی کے ساتھ مصری سرحد پر ناکہ بندی پر عمل درآمد کرنے پرمصری صدر حسنی مبارک کا خصوصی طور پر ذکر کیا،

جس پر فلسطینی شدت پسند گروپ حماس کی حکمرانی ہے۔

اُنھوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ فلسطینیوں کے لیے لڑیں اور اُن کا ساتھ دیں۔

کئی مہینوں کے بعد ظواہری کی طرف سے جاری ہونے والایہ پہلا پیغام ہے۔

اُنھوں نے افغانستان میں طالبان جنگ جوؤں کی کامیابی کو سراہا اور طالبان لیڈر ملا محمد عمر کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعادہ کیا۔


امریکہ میں قائم سائٹ نامی انٹیلی جنس گروپ نے تصدیق کی ہے کہ ٹیپ سے نشر ہونے والی آواز ظواہری کی ہے۔

یکشنبه، تیر ۲۷، ۱۳۸۹

کیوں عورتوں کے درمیان چھپے ہو نامردوں



ایران کے حکومت نے کہا تھا کہ جنداللہ ختم ہو گۓ ہیں

اچھا آج بے غیرتوں تم کیوں عورتوں کے درمیان چھپے ہو ڈر کی وجہ سے۔

شرم کرو حیا کرو مشرکوں۔

یہ تو پہلا جٹکا ہے ۔

انشاءاللہ انشاءاللہ اللہ تم لوگوں کو روح سیاہ کر رکے گا۔

شہید امیر عبدالمالک قدم بڑاو ہم تمھارے ساتھ ہیں

جنگ میں ہو یا جیل میں ہو یا جنت میں ہو ہم تمھارے ساتھ ہیں۔

زاہدان کے فدای حملوں کی خوشی سے کہی جوانوں نے مٹھای بسکٹ اور شربت لندن روڑ دالبندین کے چوک بازار میں لوگوں پر تقسیم کیا اور نعرہ بھی لگایا


کہ کافر کافر شعیہ کافر جو نہ مانے وہ بھی کافر

دالبندین کے ہر گھر میں عورتوں نے بھی اسی خوشی پر روٹی چاول شربت اور مٹھاہیاں تقسیم کی

دالبندین آنلاین کی طرف سے ان ماں باپ بہین بھاہیوں کو خوشی مبارک ہو

شنبه، تیر ۲۶، ۱۳۸۹

زاہدان میں دو فدای حملے کے بعد بلوچوں کے کہی دوکانیں نزر آتش کر دیا



زاہدان میں دو فدای حملے کے بعد بلوچوں کے کہی دوکانیں نزر آتش کر دیا۔

جس سے دوکانوں میں رکھے سارے سامان جل کرخاکستر ہو گۓ۔

جلاو گھیراوکے واقعات کے بعدشہر میں سخت کشیدگی پیداہوگہی۔

دوسری طرف زاہدان و زابل سے تعلق رکھنے والےارکان پارلیمنٹ حسین علی شیر یاری پیمان فروزش اورعباس علی نورا نے پارلیمنٹ کے رکنیت سے استعفی دے دیا۔


زاہدان کے ایڈیٹرمزاری نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوے کہاجب تک ایرانی حکومت بلوچ قومی مسلہ پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتی بلوچستان میں امن وامان کا قیام مشکل ہیں۔


حملہ کے بعد دوکانوں کو نزرآتش کرنے والے عام افراد نہیں بلکہ پاسداران انقلاب کے اہلکار تھے۔


جن کو درجنوں افراد نے اپنے آنکھوں سے دیکھا یہ صورتحال خوفناک ہیں۔

دوسری طرف جنداللہ کے ترجمان عبدالروف ریگی نے زاہدان میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوے کہا کہ یہ آغاز ہیں ایران جلد انجام دیکھے گا۔


انہوں نے کہا کہ یہ حملہ امام باڑہ میں نہیں بلکہ یوم پاسداران کے موقعے پر پاسداران کے اجلاس میں کیا گیا۔


جس میں کم سے کم 150 ہلاک ہوے اب ایران سے کوی بات نہیں ہو سکتا بلکہ فیصلہ میدان میں ہو گا۔


جو شعلے زاہدان سے اٹھے ہیں جلد تہران پہنچ جاینگے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ سنی شعیہ نہیں بلکہ مقبوضہ بلوچستان کی آزادی کا جنگ ہیں۔


ہم نے پہلے بھی ایرانی آباد کاروں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ ایران بلوچستان سے نکل جاۓ اب آخری وارننگ دیتے ہیں کہ نکل چلے یا پھر مرنے کے لیے تیار ہو جاہیں۔


اب ہم فدای حملوں کے ساتھ گوریلاوار بھی شروع کرینگے۔

بلوچستان کی آزادی ایرانی آبادکاروں کی انخلاء تک ہماری جدوجہدجاری رہے گی۔


دالبندین آنلاین

جمعه، تیر ۲۵، ۱۳۸۹

جنداللہ کے شیروں نے ایک اورایرانی شیطان کو ہلاک کیا


جنداللہ کے شیروں نے ایک اور جاسوس ہلاک کر دیا یہ بہت بڑا شیطان تھا یہ ایرانی حکومت کے ساتھ تھا اس کا نام مجیب رحمانی تھا ۔


اس کو جنداللہ کے مجاھدوں نے ہلاک کر کے اس سے کہی اسلہ اور نقدی ایرانی نوٹ اپنے قبضےمیں غنیمت حاصل کیا۔



جنداللہ نے پھر سے کہا ہے کہ یہ ایرانی حکومت کے شیطان جو شیطانی میں مبتلا ہیں اپنی یہ شیطانی کا راستہ چھوڑدیں


اور یہ شیطان جاکر اللہ پاک سے اپنا معافی مانگ لیں۔


ایک اچھا سا مسلمان مومن بن جاۓ۔اگر ایسا نہیں کیا تو ان کا یہی عشر ہو گا۔

تازہ ترین خبر برائے جنداﷲ


بسم اﷲ الرحمن الرحیم

اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر

وللہ العزة ولرسولہ وللمومنین


جنبش جنداﷲ بلوچستان اور ایران کے عوام کو اطلاع دیتی ہے کہ جمعہ کی رات غیرت و شجاعت کی گود کے پالے فرزندانِ اسلام نے یوم پاسدار میں امام بارگاہ پر ایک فقید المثال اور بے نظیر فدائی کاروائی سر انجام دی، جس میں شیطانی جماعت کے سو سے زائد کارندے جہنم واصل کئے۔


دو نوجوان شہید مجاہدِ عزیز‘ محمد ریگی اور مجاہد عبدالباسط ریگی نے یہ عظیم کاروائی سر انجام دی اور زمانے کے یزیدیوں کو اپنی ظالمانہ اعمال کا بدلہ چکا دیا۔


اس کاروائی میں سب سے پہلے اسلام کے سپوت شہید عبدالباسط ریگی نے شیطانی کارندوں کے وسط میں فدائی حملہ کرکے دس سے زائد کارندوں کو جہنم رسید کیا

تو اتنے میں شیطانی کارندوں نے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے بکھری ہوئی لاشوں کو اکھٹا کرناشروع کیاتو شیطانی کارندوں کا ایک جم غفیر دیکھ کر شہسوار شہید محمدریگی نے دوسری فدائی سر انجام دی


اور متعدد نام نہاد پاسداران اور اطلاعاتی کارندوں کو اپنی منطقی انجام میں پہنچا کر اسفل السافلین رسید کیا۔یہ فدائی کاروائی ظالم حکمرانوں کے ان غاصبانہ، جابرانہ اور ظالمانہ اعمال کے جواب میں کی گئی جو یہ سمجھ بیٹھا تھاکہ عظیم رہنما شہید عبدالمالک ریگی کی گرفتاری اور شہادت پر ظلم کے خلاف جہاد ختم ہوگیا،


لیکن ان دو جوانانِ اسلام نے اپنی جاں نثاری پر طاغوتی کارندوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا اور اپنی قربانی اور شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ جہاد اس وقت تک جاری رہے گا


جب تک ظالموں اور غاصبوں کی مقدر میں شکست، ذلت و رسوائی نہ لکھ دیں۔


فرزندانِ اسلام نے اپنے رب سے یہ عہد کیا ہے کہ وہ اپنے خوں کے آخری قطرے تک اسلام دشمن عناصر کے ساتھ جہاد کو جاری رکھیں گے

اور اس دھرتی کو ظالموں اور غاصبوں کے لئے تنگ کر دیں گے۔

یہاں تک کہ یہ ظالم و غاصب سر زمین بلوچستان کو چھوڑ دیں اور بلوچ مسلمان اپنے حکمران خود بن جائیں۔


یہ بات عیاں ہے دنیا میں

ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں

عزت سے جئے تو جی لیں گے

یا جام شہادت پی لی گے

جنبش مقاومت جنداﷲ

جنداللہ نے ایران میں فدای دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی


دبئی : ایران کے باغی گروپ جنداللہ نے زاہدان میںفدای بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔


گروپ کا کہناہے کہ حملے دھماکے ان کے رہنما عبدالمالک ریگی کوپھانسی دینے کا ردعمل ہیں ۔


دبئی سے ایک عرب ٹی وی نے جنداللہ گروپ کی جانب سے بیان میں کہاہے کہ ان دھماکوں کا ہدف زاہدان میں پاسداران انقلاب کا اجتماع تھا ۔


ایران کے شہر زاہدان میں دو فدای بم دھماکوں میں پاسداران انقلاب کے اراکین سمیت 30 افراد ہلاک اورسو سے زائد زخمی ہوگئے ۔


خبررساں ایجنسی کے مطابق دھماکے زاہدان کی امام باڑہ کے قریب ہوئے۔دونوں دھماکے فدای تھے۔


ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ دھماکو ں میں 30افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔

ایرانی نائب وزیر داخلہ علی عبداللہ نے ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ کا ظاہر کیاہے۔


سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ پہلافدای دھماکہ خاتون نے کیا۔ دھماکے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے کہ دوسرا دھماکہ ہوگیا جس میں زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ۔

تصاویر دو شهید ، شهید عبدالباسط ریگی و شهید محمد ریگی
















انقلابی گارڈز کے ارکان سمیت 30 افراد ہلاک اور ایک سو زخمی


ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی "فارس" نے نائب وزیر داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کی شب ملک کے جنوب مشرقی شہر زاہدان کے امام باڑہ میں2 استشادی حملے میں 30 افراد ہلاک و ایک سو دوسرے زخمی ہو گئے۔


برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعوی کیا ہے

زاہدان حملے میں انقلابی گارڈز کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔

نائب وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دھماکے زاہدان کی مرکزی مسجد کے باہر ہوئے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "ایرنا" کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع سیستان بلوچستان صوبے میں ہونے والے دھماکے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔


فارس نیوز ایجنسی نے نائب وزیر داخلہ سے یہ بیان منسوب کیا ہے کہ "چند لمحے قبل زاہدان کی مرکزی امام باڑہ میں ایک زور دار دھماکا ہوا۔


ہمارے پاس اس میں ہلاک و زخمیوں کی حتمی تعداد سے متعلق جو معلومات میسر ہیں اس کے مطابق ابتک تیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک سو دوسرے زخمی بتائے جاتے ہیں۔


ایرنا نے بتایا کہ زاہدان کے علاقے میں دو زور دار دھماکے سنائی دیئے۔

یاد رہے کہ زاہدان کا علاقہ پاکستان کے صوبے بلوچستان سے متصل ہے اور اس علاقے میں سنی مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے جو علاقے میں شیعہ اقلیت کو پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بناتی رہیتی ہے۔


ایران نے حکومت مخالف سنی مجاہد رہ نما عبد المالک ریگی کو گذشتہ دنوں شہید کی تھی،

جس کے بعد علاقے کی سنی اکثریت میں اشتعال پایا جاتا تھا۔

ایرانی حکومت تباہ 30 ہلاک اور سینکڑوں شدید زخمی


اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر

زاہدان : ایران کے شہر زاہدان میں دواستشادی بم دھماکوں میں 30افراد ہلاک ہوگئے ہیں.


ایرانی سرکاری ٹی وی نے نائب وزیر داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے زاہدان میں امام باڈہ کے قریب ہوئے۔


دونوں دھماکے استشادی تھے۔

انکا کہنا تھا کہ دھماکوں میں تیس افراد ہلاک اور کہی شدید زخمی ہو گہے ہیں

پنجشنبه، تیر ۲۴، ۱۳۸۹

صحابہ کرام پراعتراض کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پراشکال کرتے ہیں، شیخ الحدیث حسین پور


بلوچستان کے مایہ ناز دینی ادارہ ’’عین العلوم گشت‘‘ سراوان کے شیخ الحدیث ومہتمم مولانا محمدیوسف حسین پور نے انیسویں تقریب ختم بخاری کے موقع پر دارالعلوم زاہدان کے دورہ حدیث کے طلبہ کو صحیح بخاری کی آخری حدیث کادرس دیا۔


قرآنی آیت: ’’فاِن آمنوا بمثل ماآمنتم بہ فقداھتدوا۔۔۔‘‘ کی تلاوت کرتے ہوئے انہوں نے شرکائے دورہ حدیث کو انتہائی فکرانگیز اور ناقابل فراموش نصائح کیے۔


انہوں نے کہا قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کرنا اور ان کے رموز کو سمجھنا مختصرمدت میں ناممکن ہے، اس کیلیے طویل وقت کی ضرورت ہے۔


مولانامحمدیوسف دامت برکاتہم نے حضرت موسی وخضرعلیہما السلام کے واقعے کو تفصیلا بیان کرنے کے بعد نئے فارغ التحصیل طلبہ کو مخاطب کرکے فرمایا جن طلبہ کی آج دستاربندی ہورہی ہے انہیں معلوم ہوناچاہیے کہ وہ ابھی علم کے دروازے تک پہنچے ہیں اور انہیں آخری دم تک طلب علم کی کاوش جاری رکھنی چاہیے۔


صحیح بخاری کی آخری حدیث کی قرائت کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانامحمدیوسف نے اس بارے میں کہا بزرگوں اور صلحاء سے منقول ہے کہ ہروہ شخص جو ورزانہ صبح شام ایک سومرتبہ ’’سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم‘‘کا وردکرے اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف فرمادے گا۔


انہوں نے مزید کہا حدیث نبوی ہے:

’’ترکت فیکم الثقلین لن تضلوا ما اَن تمسکتم بہما من بعدی، کتاب اللہ وسنتی‘‘ سو فہم دین کیلیے پہلے قرآن مجیدہے پھراحادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔


ان کے بعد صحابہ کرام کے اقوال واعمال معیار بنتاہے۔

اس لیے جس طرح حدیث پرعمل کرتے ہیں اسی طرح آثارصحابہ پربھی عمل کرناچاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالات تھے؛ ظاہر سی بات ہے جتنا استاد صاحب کمال ہو اتناہی اس کے شاگرد صاحب کمال اور اونچے مقام کے کے مالک بنیں گے۔


مولاناحسین پورنے بات آگے بڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے نبوت کادروازہ بندہوگیا۔


جیساکہ سرور کونین نے تصریح کرکے فرمایا: ’’اَنا خاتم النبیین ولانبی بعدی‘‘، (میں آخری نبی ہون اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔)


چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے تو وحی اور ارشاد الہی کی روشنی میں آپ ص نے جاں نثار اور کامل درجے کے شاگرد تربیت فرمائی اور انہیں دین اسلام کی تعلیمات سے پوری طرح آشناکرنے کے بعد فرمایا:


’’بلّغوا عنّی ولو آیۃ‘‘،

([جو کچھ مجھ سے سیکھ گئے ہو] کو آگے پہنچاؤ، اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو)۔

اس لیے صحابہ کرام، ان کے بعد تابعین اور پھر تبع تابعین نے دعوت کا سلسلہ جاری رکھا اور مکمل طور پر دین اسلام کی تبلیغ کرکے اسے اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔


لہذا تصریح ربانی: ’’فاِن آمنوا بمثل ماآمنتم بہ فقد اہتدوا واِن تولّوا فاِنّما ہم فی شقاش‘‘ کی رو سے صحابہ حق وحقیقت پرتھے اور ان کا ایمان اور طرز زندگی اگلی نسلوں کیلیے معیار ہے۔


ان کو اسوہ بناکر تبلیغ دین میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔مولانامحمدیوسف نے آخرمیں تصریح کرکے فرمایا اگر (العیاذ باللہ) صحابہ غلط تھے، حق پرنہیں تھے تو یہ مسئلہ ان کے مربی واستاد کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں کی جانب لوٹتا ہے۔


یہ الزام انہی پر آئی گا۔

اس لیے یقین کے ساتھ جاننا چاہیے کہ صحابہ کرام کمال کو پہنچے ہوئے تھے جنہوں نے پوری دنیا میں اسلام کوپھیلایا اور اس کانام بلندکردیا۔

دالبندین میں کوچ ٹرک میں تصادم،18 افراد جاں بحق، 10 زخمی


دالبندین آنلاین: چاغی کے علاقے دالبندین کے قریب کوچ اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں اٹھارہ افراد جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال دالبندین منتقل کر دیا گیا ہے ۔
جہاں ایک ہی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھا جس کے باعث زخمیوں کو فوری ابتدائی طبی امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق آر سی ڈی شارع پر تافتان سے کویٹہ جانے والی مسافر کوچ دالبندین کے علاقے میں سامنے سے آنے والے تیز رفتار ٹرک سے ٹکرا گئی ۔حادثے میں اٹھارہ افراد موقع ہی پر جاں بحق ہو گئے۔
میڈیکل سپرٹنڈنٹ دالبدین نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

سه‌شنبه، تیر ۲۲، ۱۳۸۹

مسجد حرام میں خانہ کعبہ کو عرق گلاب سے غسل


مکہ مکرمہ:
مسجد حرام میں خانہ کعبہ کو عرق گلاب اور آب زم زم سے غسل دینے کی تقریب ہوئی۔


تقریب میں خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کی نمائیندگی گورنر خالد الفیصل نے کی۔

غسل دینے کے لیئے پانچ گیلن عرق گلاب اور سیتالیس گیلن آب زم زم استعمال کیا گیا۔

اس موقع پر شاہی خاندان کے اعلی حکام، علما کرام،معزز شخصیات سمیت غیر ملکی نمائیندوں نے شرکت کی۔

ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہاہے۔ روس نے پینترا بد ل لیا


ماسکو(نیٹ نیوز) روس کے صدر دمتری میدویدیف نے کہاہے ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیاہے۔


انہوں نے کہا کہ اب روس میں کے حوالے سے مغربی ملکوں کی رائے کا حامی بن گیا ہے ۔

مبصرین نے کہا کہ روسی صدر کے اس بیان سے ظاہرہوتا ہے کہ روس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے


اس سے پہلے اس کاایران کے متعلق نرم رویہ تھا ۔

ماسکو میں روسی سفیروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مدویدیف نے کہاکہ ظاہر ہوگیاہے

کہایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب پہنچ گیا ہے اوروہ بہتر کام نہیں کررہا۔


انہوںنے ایران پر زور دیاکہ وہ عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے۔ امریکہ اور یورپی ممالک ایران پر الزام لگاتی چلی آئی ہیں کہ اس کاایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے نہیں ہے۔


روس اب تک اس کا ایٹمی اشتراک کار رہاہے اور ایران شہر بشہر کے قریب اس نے ایران کو نیوکلیئر پاور پلانٹ لگا نے میں مدد دی ہے جو اسی سال کام شروع کر دےگا۔

نقاب اوڑھنے پر عائد جرمانے کی ادائیگی میں کرونگا، فرانسیسی مسلمان شخص


فرانسیسی پارلیمان میں پیش کردہ بل کے تحت نقاب پوش خواتین کو 150یورو تک جرمانہ کیا جا سکےگا۔


فرانس کی ایک مسلم کاروباری شخصیت نے نقاب اوڑھنے کی پاداش میں مسلم خواتین پر عائد ہونے والے جرمانوں کی ادائی کے لیے اپنی جائیدادیں فروخت کرنے کی پیش کش کی ہے۔


فرانسیسی پارلیمان مسلم خواتین کے مکمل نقاب اوڑھنے پر پابندی کے لیے قانون کی منگل کو منظوری دے رہی ہے۔


فرانسیسی پارلیمان میں پیش کردہ بل کے تحت عوامی مقامات میں مکمل حجاب یا نقاب اوڑھنے والی مسلم خواتین کو ڈیڑھ سو یورو تک جرمانہ کیا جا سکے گا اور خواتین کو حجاب اوڑھنے پر مجبور کرنے والے ان کے رشتہ دار مردوں کو قید کی سزائیں دی جا سکیں گی۔


کاروباری شخصیت راشد نقاز نے متعدد اخبارات میں شائع ہونے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ جائیدادوں کی فروخت کے ذریعے دس لاکھ یورو مالیت کا ایک فنڈ قائم کریں گے جس سے نقاب اوڑھنے والی کسی بھی خاتون پر عاید کیے جانے والے جرمانے کی رقم ادا کی جا سکے گی۔


واضح رہے کہ راشدنقاز نے فرانس میں 2007ء کے صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کی کوشش کی تھی۔


وہ ''میرے آئین کے ہاتھ قلم'' کے عنوان سے ایک تنظیم بھی قائم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے نقاب اوڑھنے پر پابندی غیر آئینی ہے۔

فرانس میں یورپ کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی آباد ہے اور وہ بیلجئیم کے بعد دوسرا ملک ہے جہاں مسلم خواتین کے نقاب اوڑھنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔


ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمان بل کی منظوری دے دیتی ہے تو بھی اس پر عمل درآمد آسان نہیں ہو گا۔


ان کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین کی ایک حقیر اقلیت ہی مکمل نقاب اوڑھتی ہے جبکہ نیا قانون شخصی آزادیوں پر مزید قدغنیں لگانے کی جانب ایک قدم ہو گا۔


نقاب پر پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو مکمل ملبوسات پہنانا سیکولر ازم کے آئیڈیلز اور برابری کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔


فرانس میں اسکولوں میں مسلم طالبات کے سرپوش اوڑھنے اور دوسری مذہبی علامات کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔


رائے عامہ کے جائزوں میں عیسائی فرانسیسیوں نے مسلم خواتین کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کی حمایت کی ہے اور حکومت کو اس پابندی کے لیے وسیع تر حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے کیونکہ اپوزیشن سوشلسٹوں نے بل کی مخالفت نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسرائیل کی ہرزہ سرائی،ایران دہشتگرد ملک ہے،


جنگ نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران جیسی غیر معقول حکومتوں کو جوہری اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،

یہ خیال کرنا غلطی ہو گی کہ ایران کے ارادے کو روکا جا سکتا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران صرف اور صرف جوہری ہتھیاروں کی تیاری کیلئے نیوکلیئر پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے،جو انتہائی خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے بنانے سے روکا نہیں جا سکے گا،

ایران پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، ہم ایران جیسی غیر معقول حکومتوں کو جوہری اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایران آج کا واحد دہشت گرد خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین براہ راست مذاکرات کے جلد آغاز کیلئے (کل) منگل کو مصری صدر حسنی مبارک سے ملاقات کریں گے۔

آج نیوز کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران ایک دہشت گرد ملک ہے،اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لئے اپنے پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے اور اس کے عزم کو روکنا ممکن نہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں تہران پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

دوشنبه، تیر ۲۱، ۱۳۸۹

ابو ھریرۃ رضي الله عنه سے روایت ہے


ایک شخص ساٹھ سال تک نماز پڑھتا ہے

مگر اسکی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی"

پوچھا گیا : وہ کیسے ؟؟

انہوں نے کہا : کیونکہ نہ وہ اپنا رکوع پورا کرتاہے اور نہ سجود

نہ قیام پورا کرتا ہے نہ اس کی نماز میں خشوع ہوتا ہے

حضرت عمر رضي الله عنه نے فرمایا :

ایک شخص اسلام میں بوڑھا ہوگیا

اور ایک رکعت بھی اسنے اللہ کے لیے مکمل نہیں پڑھی

پوچھا گیا کیسے یا امیر المومنین ؟

فرمایا :

اس نے نہ اپنا رکوع پورا کیا اور نہ سجود

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا

ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا"

لوگ نماز پڑھیں گے مگر انکی نماز نہیں ہوگی

اور مجھے ڈر ہے کہ وہ زمانہ یہی زمانہ ہے"

امام اگر آج کا زمانہ آکر دیکھ سکتے تو کیا کہتے ؟؟

امام غزالی رحمه الله نے فرمایا:

ایک شخص سجدہ کرتا ہے اس خیال سے کہ اس سجدہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرے گا

اس اللہ کی قسم اگر اس کے اس سجدے کا گناہ تقسیم کیا جائے تو سارا بلد ھلاک کر دیا جائے پوچھا گیا وہ کیسے ؟؟

فرمایا:

وہ اپنا سر اپنے اللہ کے سامنے جھکاتا ہے

مگر اپنے نفس ،گناہوں، اپنی شہوات اور دنیا کی محبت میں مصروف ہوتا ہے

تو یہ کیسا سجدہ ہے ؟؟؟

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

میری آنکھون کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے

تو کیا کبھی آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپکے آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہو ؟؟؟

کیا کبھی آپ گھر کی طرف تیزی سے پلٹے صرف دو رکعت کی ادائیگی کی نیت سے ؟؟ کیا کبھی نماز کی محبت نے آپ کو بے چین کیا ؟؟

کیا کبھی آپ نماز کے لیے ترسے ؟؟

کیا کبھی آپ نے رات کا بے چینی سے انتظار کیا

تاکہ آپ اپنے رب کے ساتھ اکیلے نماز میں ملاقات کر سکیں ؟؟

اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :
(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))

کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟

ابن مسعود رضي الله عنه فرماتے ہیں

ہمارے اسلام لانے کے چار سال بعد یہ آیت نازل ہوئی

اس ایت میں اللہ سبحانہ نے ہم سے شکایت کی

ہم سب بہت روئے

اپنے قلۃ خشوع پر

پھر ہم گھروں سے نکلتے تو ایک دوسرے کو عتاب کرتے اور کہتے

کیا تم نے اللہ سبحانہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟؟؟

(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))

کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟

تو لوگ گر جاتے اور رونے لگتے

اللہ کے اس عتاب پر

تو کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا اس آیت سے؟؟

کہ اللہ تعالی آپ سے کیا کہہ رہا ہے ؟؟

اپنی نمازوں کو ضائع ہونے سے بچائیں

اور اگر آپ پر یہ بھاری ہو تو جان لیجیئے

آپ کے گناہ اس کام میں رکاوٹ ہیں

دوشنبه، تیر ۱۴، ۱۳۸۹

جرمنی، برطانیہ اور یو اے ای کا ایرانی جہازوں کو تیل فراہمی سے انکار


ایران کا کہنا ہے کہ جرمنی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نے امریکا کی تہران کے خلاف حالیہ پابندیو ں کے بعد ایران کے مسافر جہازوں کو تیل فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایرانی ائرلائنز یونین کے سیکرٹری مہدی علی یاری نے نیم سرکاری "ایسنا" نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے سے ایران کے جہازوں کو جرمنی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر تیل فراہم نہیں کیا جا رہا۔یادرہے

امریکی کانگریس کے ایران کے خلاف سخت پابندیوں کے لیے منظور کردہ بل کے تحت ایران کو ریفائن پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد نہیں کی جاسکتیں اور امریکی بنکوں پر ایران کے پاسداران انقلاب کو خدمات مہیا کرنے والے غیر ملکی بنکوں کے ساتھ لین دین پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ادھر دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے خاتم الانبیاء آپریشن ونگ کے کمانڈر بریگیڈئر رستم قاسمی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے ایران کو ضروری پیٹرول فراہم کرنے کے لئے کمپنیاں تشکیل دے دی ہیں تاکہ ایران میں ایندھن کے شعبے کو نئی پابندیوں کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔

جند اللہ کے شھید

شھیدنعمت اللہ
شھید سیف اللہ

شھیدسیف اللہ

شھیدصدیق وشھیدسیف اللہ
شھید سیف اللہ

یکشنبه، تیر ۱۳، ۱۳۸۹

شیعہ رہ نما آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ لبنان میں مرگہے


لبنان میں شیعہ آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ اتوار کے روزمرگئے۔

بیروت میں ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ 74 سالہ محمد حسین فضل اللہ کا انتقال مختصر علالت کے بعد ہوا۔


آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ عراق میں پیدا ہوئے۔

ان کے ماننے والوں کی بڑی تعداد لبنان سے باہر وسطی ایشائی ریاستوں اور خلیجی ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔


انقلاب ایران کے بہت بڑے حامی تھے۔

سنہ 1982ء میں حزب اللہ کی تاسیس کے وقت وہ لبنان کے گروپ کے سیاسی سرپرست کے طور پر سامنے آئے۔


آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ امریکا کے سخت مخالف تھے۔

وہ اپنے جمعہ کے خطبات میں اکثر مشرق وسطی میں امریکا کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے تھے۔


وہ واشنگٹن اور تل ابیب گٹھ جوڑ کے سخت مخالف تھے۔

شیعہ حلقوں میں وہ خواتین کے حوالے سے اپنے متعدل خیالات کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتے۔


گذشتہ چند ہفتوں سے اہسپتال میں زیر علاج تھے لیکن جمعہ کے روز ان کی طبیعت بگڑ گئی۔


ان کے جگر سے خون رسنے لگا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

لاپتہ افراد کے عزیزوں کا مظاہرہ


بلوچستان میں لاپتہ بلوچوں کے لواحقین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک عدلیہ آزاد نہیں ہوئی ہے جس کے باعث لواحقین آج بھی عدالتوں کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں لواحقین نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کومنظر عام پر لانے وہ اپناکردار ادا کرے ـ


کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق لاپتہ بلوچوں کی آواز ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے زیراہتمام جمعہ کوکوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعدا د نے شرکت کی


جس سے خطاب کرتے ہوئے لاپتہ عبدالرزاق لانگو کی بیٹی نے کہا کہ انکے والد کوئٹہ سے سات ماہ قبل لاپتہ ہیں۔


مگر آج تک نہیں معلو م کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے بقول انکے کہ انکے والد کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا

انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان میں خفیہ اداروں کی حکومت ہے جو اس طر ح کے ہتھکنڈوں سے بلوچستان میں جاری تحریک آزادی کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں

بلوچستان میں لاپتہ بلوچوں کے عزیزوں کا مظاہرہ
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نجیب قمبرانی کی ہمشیرہ نے کہا کہ انکے بھا ئی کو گذشتہ برس اکتوبر میں کلی قمبرانی سے اٹھا گیا ہے لیکن آج تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کس حال میں ہے ـ


انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے کئی بار سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا اور لاپتہ بلوچوں کے مقد مات بھی دائر کیے گئے ہیں

لیکن ابھی تک عدالتوں سے ہمیں انصاف نہیں ملا ہے ـ


انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے دعویدار حکومت کے باوجود نہ صرف ابھی تک لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے


بلکہ پہلے لاپتہ ہونے والوں پر خفیہ اداروں کے عقبوت خانوں پر اس طرح تشدد کیا جارہا ہے کہ منظرعام پر آنے کے بعد وہ ذہنی طور پر مفلوج ہوجاتا ہے


انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بلوچستان میں ہونے ریاستی ظلم وتشدد کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

کانگو :آئل ٹینکر میں دھماکا، 230 افراد زندہ جل گئے


مشرقی افریقی ملک کونگو میں آئل ٹینکر میں دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی آتشزدگی سے کم سے کم 230 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔


حکام کے مطابق یہ واقعہ سانگے گاوٴں میں پیش آیا،

جو برونڈی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکر تنزانیہ سے آتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث الٹ گیا۔


اس موقع پر گاوٴں کے متعدد لوگ جمع ہو گئے جبکہ بڑی مقدار میں تیل بہہ کر گاوٴں میں چلا گیا۔


بعد ازاں ایک دھماکے سے ٹینکر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی جس کی لپیٹ میں نہ صرف موقع پر موجود عوام بلکہ گاوٴں کے گھر بھی آ گئے جہاں آگ سے زندہ جل جانے والے افراد کی بڑی تعداد عالمی فٹبال کے مقابلے دیکھ رہی تھی۔


ابتدائی اطلاعات کے مطابق سانحے کے نتیجے میں 230 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

اسرائیل کے اچانک حملے کی پیشگی اطلاع کے لیے


ایران نے شام میں ایک راڈار سسٹم نصب کر دیا ہے جو اس کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے ممکنہ اچانک فضائی حملے کی پیشگی اطلاع دے سکے گا۔


ترجمان نے یہ بات تو تسلیم کی کہ تمام ممالک کو اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایران سے راڈار کی منتقلی اس لیے تشویش کا سبب ہے کہ شام کے حزب اللہ کے ساتھ تعلقات ہیں۔


امریکی صدر براک اوباما نے دو روز پہلے ایران کے خلاف سخت پابندیوں کے بل کی منظوری دی ہے اور ان پابندیوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایران کی اپنے جوہری پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی صلاحیت پر زد پڑے گی اور اس کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہو گا۔


امریکا کی ایران کے خلاف عاید کردہ سخت پابندیوں کے تحت کسی امریکی کمپنی کی جانب سے ایران کو ریفائن پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد نہیں کی جا سکے گی اور اس کے جیٹ طیاروں کے لیے ایندھن کی فراہمی پر بھی پابندی ہو گی۔


اس کے علاوہ امریکی بنکوں پر ایران کے پاسداران انقلاب کو خدمات مہیا کرنے والے غیر ملکی بنکوں کے ساتھ لین دین پر پابندی لگا دی گئی ہے۔


اوباما انتظامیہ کو توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی ایران کے خلاف حالیہ پابندیوں کے ساتھ اب امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے سخت پابندیوں کے نتائج برآمد ہوں گے لیکن ماضی میں ایران پر عاید کردہ پابندیاں اسے جوہری پروگرام پر پیش رفت سے روکنے میں ناکام رہی تھیں۔


اقوام متحدہ نے اپنی پابندیوں میں ایران کے پاسداران انقلاب، بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام سے متعلق سرمایہ کاری پر قدغنیں لگائی تھیں۔

شنبه، تیر ۱۲، ۱۳۸۹

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید خاش وسراوان کے دورے پر


سوموار کی رات کو حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم مدرسہ دارالہدی کی سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے جو ضلع خاش کے علاقے اسماعیل آباد میں واقع ہے۔


دارالہدی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مقام صحابہ رضى الله عنهم اجمعين پر روشنی ڈالی۔


آپ نے فرمایا صحابہ کرام سچے مسلمان تھے جن میں ذرہ برابر نفاق نہیں تھا۔

عمل اور اخلاص ان کا زیور تھا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ان سے اپنی رضامندی کا اعلان فرمایا اور رسول اکرم ص بھی اس حال میں اس دنیا سے رخصت ہوئے کہ صحابہ کرام سے رضامند تھے۔


اس لیے اگر کوئی کامیابی وسعادت کی تلاش میں ہے تو ان کی اتباع کرے، ان کی زندگی پر غور کرے اور جس طرح انہوں نے اللہ تعالی کی عبادت کی اسی طرح اللہ کی بندگی کرے۔


جب ہم صحابہ کرام اور سلف صالح کی زندگیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہماری طرز زندگی ان کے طریقوں سے بہت دور ہے، قرآن ہمارا دستور نہیں رہا ہے۔


ہمیں ان کی پیروی کا حکم ہے لیکن تقابل کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کہ ہم کس قدر نبی اکرم اور صحابہ کرام کے طریقے سے دوری اختیار کرچکے ہیں۔


سورۃ البقرۃ کی آیت 208 کی تلاوت کرتے ہوئے انہوں نے کہا اللہ تعالی نے اس بات پر زوردیا ہے کہ ہمہ تن اسلام میں داخل ہوجاؤ اور دین پر عمل کرو۔


اس کے باوجود مسلمانوں سے سستی وکوتاہی سرزد ہوتی ہے، جب مسلمانوں کو نماز میں کاہلی کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو اس سے دل پرلرزہ طاری ہوتاہے چونکہ ہمیں یقین ہے ایسا مسلمان عذاب قبرسے دوچارہوتاہے۔


یہ وعدہ خداوندی ہے مگر یہ کہ اللہ تعالی مغفرت فرمائے۔

اس کی کیا گارنٹی ہے! کس قدر افسوسناک بات ہے کہ شراب نوشی، زنا، اغواء برائے تاوان اورکشت وخون مسلم معاشروں میں عام ہوچکے ہیں۔


آپ ص نے فرمایاہے جو شخص مسلمانوں کیخلاف بندوق اٹھائے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، وہ میری امت میں شامل نہیں ہے۔


آج کل سودخوری عام ہوچکی ہے۔

رباخور اللہ سے اعلان جنگ کرتاہے۔ جس ریاست میں ربا عام ہوجائے اس کی تباہی یقینی ہے۔

جمعه، تیر ۱۱، ۱۳۸۹

جنداللہ کے شیروں نے دو ایرانی جاسوسوں کو پکڑ کر ہلاک کردیا


جنداللہ کے شیروں نے دو ایرانی جاسوسوں کو پکڑ کر ہلاک کیا یہ جاسوس خبیث حاجی مجید حرامی کے دست راست تھے


ان میں سے ایک کا نام جلال اور دوسرے کا نام نبی بخش ارف کریچوک نوتیزی تھا یہ دونوں حرامی ایرانی حکومت اور حاجی مجید خبیث کے ساتھ مل کر جنداللہ کے دو جوانوں کو شہید کیا تھا


اللہ پاک نے ان خبیثوں کو رسوا کیا
ان خبیثوں کو اپنے کیے کی سزا مل گہی اس دنیا میں رسوا اور آخرت میں جہنمی ہو گہے

ایران کے خلاف سخت پابندیاں: اوباما نے بِل پر دستخط کر دیے


امریکی صدربراک اوباما نے ایران کے خلاف نئی توانائی اورمالی پابندیوں پرمشتمل ایک سخت پیکج کےبِل پردستخط کرکے اُسے قانونی شکل دے دی،

جو اُن کے بقول ایران کے مبینہ جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام کے لیے فنڈ اکٹھے کرنے اوربنانے کی اہلیت پر کاری ضرب لگائیں گی۔


جمعرات کو وائٹ ہاؤس سے خطاب میں مسٹر اوباما نے کہا کہ نئےاقدامات، اُن کے بقول، امریکی کانگریس کی طرف سے اب تک منظور کردہ سخت ترین اورمربوط پابندیاں ہیں جن پرکئی فریقوں کے اشتراک سےعمل ہوگا۔


یہ پابندیاں ایران کے توانائی اور بینکاری کے شعبوں کو ہدف بنائیں گی۔


اِن کا مقصد یہ ہوگا کہ ایرانی حکومت کے لیےتیار شدہ پیٹرول خریدنا مشکل ہوجائے، اور یہ کہ ایسی کمپنیاں جو گیسولین، جیٹ فیول اور دیگر ایسی مصنوعات ایران کو پیچیں گی اُنھیں امریکی منڈیوں سے خارج کیا جاسکے گا۔


اِس اقدام کے ذریعے ایران کے کلیدی اداروں یا ایرانی پاسداران کے ساتھ کاروبار کرنے پر غیر ملکی بینکوں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے روکا جائے گا


مسٹر اوباما نے کہا کہ اِس قانون سازی میں ایسی ٹیکنالوجی کی امریکی تجارت پر قدغنوں میں استثنیٰ حاصل ہوگا جِن کی مدد سے ایرانی لوگوں کی اطلاعات تک رسائی ممکن ہوتی ہو اور اُن کو آزادانہ رابطوں کی صلاحیت میں سہولت میسر آتی ہو۔

داتا دربار میں ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں میں بیالیس افراد ہلاک اور دو سو زخمی


جمعرات کی شام کو ہزاروں کی تعداد میں زائرین ملک کے مختلف علاقوں سے داتا دربار پر حاضری کے لیے لاہور آتے ہیں اور جس وقت یہ خودکش حملے ہوئے اس وقت بھی زائرین کی ایک بڑی تعداد دربار کے اندر اور اس کے اطراف میں موجود تھی۔

لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار نے بتایا کہ ایس ایس پی آپریشنز کے دفتر نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیالیس سے زیادہ بتائی ہے۔


داتا دربار پر خود کش دھماکوں کے بعد سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے بے گناہ انسانوں کی ہلاکت پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔


کچھ تنظیموں نے جمعہ کو سوگ منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تحفظِ ناموسِ رسالت نامی تنظیم نے لاہور میں خود کش دھماکوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔


دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے جمعہ کے روز داتا دربار میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحقیقاتی اداروں پر واضح کردیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے جس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔


مذہبی اتحاد کی سترہ جماعتوں کا اجلاس جامعہ نعیمیہ میں جاری ہے جس کے بعد جمعہ کی نامز کے بعد داتا دربار میں خودکش حملوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔


داتا دربار میں ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد مردوں کی ہے۔


اس سے قبل حکومت پنجاب نے داتا دربار میں فجر کی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد نمازیوں کو دربار سے نکالنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔


اس وقت جمعہ کی نماز کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم شہر بھر میں عبادت گاہوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔


لاہور کے بڑے تجارتی مراکز جن میں مال روڈ اور اردو بازار شامل ہیں جمعہ کے روز بند ہیں۔


پولیس نے بتایا ہے کہ داتا دربار سے ایک دھڑ ملا ہے جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ خودکش حملہ اور کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھڑ سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور کم عمر کا تھا۔


حکومت پنجاب نے داتا دربار میں فجر کی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد نمازیوں کو دربار سے نکالنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔


لاہور کے سی سی پی او اسلم ترین نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور بھاگتا ہوا داتا دربار میں داخل ہوا ہے جس کو روکنے کی کوشش کی گئی اور اس کے پیچھے لوگ بھاگے۔


اس کے چند ہی لمحوں بعد دوسرا خودکش حملہ آور اسی گیٹ سے داخل ہو کر احاطے میں گیا ہے جہاں اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔


’پہلے حملہ آور کو تلاشی کے لیے روکا بھی گیا لیکن وہ بھاگتا ہوا داخل ہوا۔


اس کو روکنے کے لیے رضا کار جو تلاشی لے رہے تھے وہ بھی اس کے پیچھے بھاگے جس کے بعد خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔‘


سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان خودکش حملہ آوروں کی نشاندہی مشکل تھی۔


’جمعرات کا دن تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ حاضری کے لیے آئے ہوئے تھے۔


حملہ آوروں نے سفید شلوار قمیض اور ہری پگڑی باندھ رکھی تھی جس کی وجہ سے ان کی نشاندہی مشکل تھی۔‘


پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دھماکہ دربار کے تہہ خانے میں واقع لنگر خانے میں ہوا جبکہ دوسرے خود کش بمبار نے خود کو مزار سے تیس فٹ کے فاصلے پر اڑایا۔


داتا دربار پر ایک رضا کار محمد ناصر نے بتایا ’دھماکوں کے بعد ایک اندوہناک منظر دیکھنے کو ملا۔ ہر جگہ لاشیں پھیلی پڑی تھیں اور لوگ رو رہے تھے۔‘

بلوچستان میں ایرانی فائرنگ


بلوچستان میں گزشتہ تین روز میں ایرانی فورسز نے پاکستانی حدود میں لوگوں پر فائرنگ اور آنسوگیس کا استعمال کیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی نے ایرانی سرحدی فورسز کی جانب سے پاکستانی حدود میں کارروائی کی مذمت کی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی سفیر کو وزارت داخلہ طلب کرکے صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔
کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ایران سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی علاقے سرکی زہ زامران میں گذشتہ تین دنوں میں پاسداران ایران نے کئی بار پاکستانی حدود میں داخل ہوکر مقامی لوگوں پر فائرنگ اور آنسوگیس کا استعمال کیاجس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ چند مکانات اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

متاثرہ علاقے سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق ایم پی اے رحمت اللہ بلوچ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں کہا کہ ایرانی سیکورٹی فورسز پاکستانی حدود میں دس کلومیٹر اندر داخل ہوکر فائرنگ کرکے چلے جاتے ہیں لیکن پاکستانی سیکورٹی فورسز کی پانچ چیک پوسٹس موجود ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں جب کوئٹہ میں فرنٹیئر کور سے راطبہ کیا گیا تو انہوں نے زامران کے واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کا بہتر جواب وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔

دوسری جانب گوادر ڈولپمینٹ آتھارٹی کے صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران زامران کے واقعات کی مذمت کی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ایرانی سفیر کو فوری طور وزارت داخلہ طلب کرکے انہیں صورتحا ل سے آگا ہ کیا جائے۔

بعد میں سپیکر بلوچستان اسمبلی سردار اسلم بھوتانی نے صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور محترمہ پروین مگسی کو اس مسئلے پر وقاقی حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ـ

خیا ل رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ایران کے صوبہ سستان بلوچستان میں ایک خودکش حملے کے بعد ایران نے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے تک پاکستان کے ساتھ سرحد بند رکھی۔
اس حملے میں ایرانی فوج کے کئی اعلی عہدیداروں سمیت چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس سال فروری میں ایران میں سنی تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کی گرفتاری کے بعد ایران نے یکم مارچ سے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد دوبارہ کھول دیا تھا۔

عبدالمالک ریگی کو گذشتہ ماہ ایران میں پھانسی دی گئی ہےتھی۔ جندواللہ نے ایران میں خودکش بم حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
بی بی سی اردو